اپنی نوعیت کا پہلا کیس ، لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں ایک لڑکی کو ملی تین سال کی سزا– News18 Urdu

اپنی نوعیت کا پہلا کیس ، لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں ایک لڑکی کو ملی تین سال کی سزا

اندور : اندور کی ضلع عدالت نے اپنی نوعیت کے پہلے کیس میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ فحش حرکت کرنے والی ایک لڑکی کو تین سال قید اور 500 روپے کے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ خواتین یا لڑکیوں سے چھیڑچھاڑ کے معاملے میں کسی لڑکی کو سزا سنائے جانے کا یہ پہلا معاملہ ہے۔

Dec 27, 2015 12:34 PM IST | Updated on: Dec 27, 2015 12:34 PM IST

اندور : اندور کی ضلع عدالت نے اپنی نوعیت کے پہلے کیس میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ فحش حرکت کرنے والی ایک لڑکی کو تین سال قید اور 500 روپے کے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ خواتین یا لڑکیوں سے چھیڑچھاڑ کے معاملے میں کسی لڑکی کو سزا سنائے جانے کا یہ پہلا معاملہ ہے۔

اپر سیشن جج بھارت سنگھ راوت نے ملزم سمرن عرف ماہی گل کو مجرم قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا سنائی۔ سرکاری وکیل دنیش کھنڈیلوال نے بتایا کہ عدالت نے ملزم لڑکی سمرن کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ جب معاشرے میں ایک خاتون ہی خاتون کے ساتھ فحش حرکت کرے گی ، تو معاشرے میں خواتین کا تحفظ کس طرح ممکن ہوسکے گا۔

اپنی نوعیت کا پہلا کیس ، لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں ایک لڑکی کو ملی تین سال کی سزا

خیال رہے کہ ملزم سمرن کو فروری 2013 میں بھوپال ریلوے اسٹیشن پر مشتبہ حالت میں پکڑا گیا تھا۔ اسے وہاں سے اندور کے گرلز اسپیشل ریفارمس ہوم بھیج دیا گیا تھا۔ 2014 میں ایک لڑکی نے ریفارمس ہوم کی ڈائریکٹر سے سمرن کی شکایت کی ۔ شکایت میں بتایا گیا کہ سمرن اس کے ساتھ فحش حرکت کرتی ہے۔ اس کے بعد کئی معصوم بچیوں نے بھی ہمت كر کے اپنی شکایتیں کی تھیں۔

ڈائریکٹر کی شکایت پر تھانہ ہیرا نگر نے سمرن کے خلاف کیس درج کیا تھا۔ اس نے خود کو نابالغ بتایا ، لیکن میڈیکل ٹیسٹ میں اس کی عمر 19 سال پائی گئی تھی۔ اس بنیاد پر اس کو دیواس جیل میں رکھا گیا ۔ یہاں بھی خواتین قیدیوں کے ساتھ فحش حرکت کی شکایت پر اس کو اندور جیل بھیج دیا گیا ۔

Loading...

لڑکی کی طرف سے کچھ وقت پہلے کچھ لوگوں نے ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ جیل میں ایک قیدی سے محبت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی غلطی کی معافی مانگی گئی تھی ، مگر عدالت نے ضمانت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

Loading...