عشق کی راہ میں آڑے آیا مذہب، بالآخرعشق کا ہوا قتل– News18 Urdu

عشق کی راہ میں آڑے آیا مذہب، بالآخرعشق کا ہوا قتل

بلند شہر۔ کہتے ہیں کہ محبت ذات اور مذہب کی بندشوں کی محتاج نہیں ہوتی۔

May 26, 2016 01:51 PM IST | Updated on: May 26, 2016 01:51 PM IST

بلند شہر۔ کہتے ہیں کہ محبت ذات اور مذہب کی بندشوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ مگر بلند شہر میں دو محبت کرنے والے ایسے بھی ملے جو عشق تو چار برس سے کرتے تھے  لیکن جب بات شادی کی آئی تو دونوں نے ایک دوسرے کے مذہب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب بات نہیں بنی تو بے رحم عاشق نے معشوقہ کو گلا دبا كر مار ڈالا۔ پولیس نے عاشق کو  قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

بلند شہر  کے ایک گاؤں میں رہنے والی گلستاں محض سترہ سال کی تھی۔ اس  کو گاؤں کے ہی شادی شدہ  چراغ سے عشق ہو گیا۔ ان دونوں کی محبت کے چرچےعام ہو گئے۔ لیکن گلستاں نے نہ  معاشرے میں ا پنی رسوائی کی کوئی فکر کی نہ ہی چراغ کے شادی شدہ ہونے سے اس کے جذبات میں کوئی تبدیلی آئی۔ لیکن ایک معمولی سی بات پرتکرار دونوں کی محبت پرایسی بھاری پڑی کہ گلستاں کو اپنی جان سے اس کی قیمت چکانی پڑی اور عاشق کو اس کے قتل کے الزام میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔

عشق کی راہ میں آڑے آیا مذہب، بالآخرعشق کا ہوا قتل

مگر اس رشتے میں ایک شرط تھی ۔ در اصل گلستاں اور چراغ آپس میں شادی کرنا چاہتے تھے  لیکن اس رشتے میں ایک شرط تھی۔ گلستاں چاہتی تھی کہ چراغ مسلمان ہو جائے اور چراغ چاہتا تھا کہ گلستاں ہندو بن جائے۔

up

 پچھلے کچھ دنوں سے گلستاں کے گھر والوں نے اس کی شادی کی بات کسی دیگر لڑکے سے چلا رکھی تھی۔ اس پر گلستاں نے چراغ پر جلد شادی کے بارے میں فیصلہ لینے کو زور ڈالنا شروع کر دیا۔ 18 مئی کی رات کو دونوں کا ملنا طے ہوا۔  رات کے اندھیرے میں دبے پاؤں گلستاں گھر سے نکل آئی۔  گھر کے باہر بٹوروں کے قریب اسے چراغ ملا اور پھر شادی کے معاملے پربحث شروع ہو گئی۔

up2

گلستاں نے پھر سے چراغ کے آگے مذہب تبدیلی کی بات دہرائی۔ عشق پر مذہب کا جنون بھاری پڑا اور دونوں ایک دوسرے کے مذہب پر طنز کرنے لگے۔ اس کے بعد بات اتنی بڑھی کہ چراغ نے اچانک گلستاں کو بٹورے میں ڈالا اور زور سے دبوچ كر اس کا گلا دبا دیا ۔  گلستاں نے کچھ ہی دیر میں تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ اس کے بعد چراغ فرار ہو گیا۔  صبح گلستاں کی تلاش ہوئی تو اس کے مردہ پاؤں بٹورے کے باہر نکلے پڑے تھے۔

پولیس نے چراغ کو گرفتار کر لیا اور چار دن کی مشقت کے بعد  پولیس چراغ کے حلق سے سچ اگلوا پائی۔ فی الحال وہ جیل میں ہے۔

Loading...