uttar pradesh moradabad father in law raped in the name of halala cases filed against five including two clerics– News18 Urdu

حلالہ کے نام پر سسر نے کی آبروریزی ، دو مولویوں سمیت پانچ افراد کے خلاف کیس درج ، جانچ جاری

الزام ہے کہ تین طلاق اور حلالہ کے جال میں پھنسا کر بار بار خاتون کی آبروریزی کی گئی ، جس کے نتیجہ میں وہ حاملہ بھی ہوگئی ۔

Sep 02, 2018 08:27 PM IST | Updated on: Sep 02, 2018 08:27 PM IST

اترپردیش کے سنبھل ضلع میں تین طلاق اور حلالہ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلہ میں سسر اور دو مولویوں سمیت پانچ افراد کے خلاف اجتماعی استحصال کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ تین طلاق اور حلالہ کے جال میں پھنسا کر بار بار خاتون کی آبروریزی کی گئی ، جس کے نتیجہ میں وہ حاملہ بھی ہوگئی ۔

بریلی کے ایک سینئر پولیس افسر پریم پرکاش نے بتایا کہ مرادآباد ضلع کی رہنے والی ایک خاتون نے اپنی شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت میں اس نے کہا ہے کہ اس کی شادی سات دسمبر 2014 کو نکھاسا تھانہ علاقہ کے ترتی پورہ علاقہ کے رہنے والے محمد نور نام کے شخص سے ہوئی تھی ۔ خاتون کا الزام ہے کہ 25 دسمبر 2015 کی رات کو اس کے سسرال کے لوگوں نے اس کو گھر سے باہر نکال دیا تھا ۔

حلالہ کے نام پر سسر نے کی آبروریزی ، دو مولویوں سمیت پانچ افراد کے خلاف کیس درج ، جانچ جاری

علامتی تصویر

خاتون کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں اس نے تین جنوری 2016 کو اپنے سسرال کے خلاف معاملہ درج کرایا تھا ۔ بعد میں 24 دسمبر 2016 کو دونوں فریقوں کے درمیان سمجھوتہ ہوگیا اور وہ اپنے سسرال چلی گئی ، اس کے بعد اس کے شوہر نور ، سسر شعیب اور اس کے شوہر کے مامو شنو نے کہا کہ چونکہ طلاق ہوچکی ہے ، اس لئے اب حلالہ کرنا پڑے گا ۔

خاتون کا الزام ہے کہ کافی منع کرنے کے باوجود شنو دو مولویوں کو لے کر آیا ، دونوں مولویوں نے کہا کہ وہ اس کے سسر شعیب سے اس کا نکاح کرادیں  گے اور حلالہ کے بعد وہ اس کو صبح طلاق دے دے گا ۔ اس کے بعد اس کا نکاح نور سے دوبارہ کرادیا جائے گا ۔ تقریبا دو گھنٹے بعد اس کو بتایا گیا کہ اس کا نکاح شعیب کے ساتھ کردیا گیا ہے۔

خاتون نے بتایا کہ بعد میں محمد نور اور شنو نے مل کر اس کو شعیب کے ساتھ کمرے میں بند کردیا ، جہاں اس کی آبروریزی کی گئی۔ صبح شعیب نے اس کو طلاق دیدی اور اس کو عدت کے نام پر ایک کمرے میں بیٹھادیا گیا ۔ اس دوران نور نے بھی اس کی آبروریزی کی ، جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوگئی ۔ بعد میں وہ اپنے مائیکے چلی گئی ، جہاں اس نے ایک لڑکے کو پیدا کیا ۔

خاتون نے اپنی شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جب سے اس ظلم کے خلاف ضلع افسر کو عرضی دی ہے ، تب سے نور اور کچھ مولانا اس کو اور اس کے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں خاتون کے شوہر محمد نور ، سسر شعیب ، مامو شنو اور دو نامعلوم مولویوں کے خلاف اجتماعی آبروریزی کے الزام میں گزشتہ روز معاملہ درج کیا گیا ہے۔ معاملہ کی جانچ کی جارہی ہے۔

ایجنسی ان پٹ کے ساتھ ۔ 

 

Loading...