دلائی لامہ نے توڑی چپی، کہا بدھا ہوتے تو وہ روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرتے

Sep 12, 2017 01:53 PM IST | Updated on: Sep 12, 2017 01:53 PM IST

ینگون۔ بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے روہنگیا مسئلہ پر پہلی بار اپنی خاموشی توڑتے ہوئے میانمار کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مظالم کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے معصوم روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرے کیوں کہ بدھ مت کی یہی تعلیم ہے۔ میانمار میں بدھ مت انتہا پسندوں اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے تشدد کا شکار روہنگیا مسلمانوں کے حق میں پہلی مرتبہ آواز بلند کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بدھا زندہ ہوتے تو وہ تشدد سے جانیں بچا کر راہ فرار اختیار کرنے والے مسلمانوں کی مدد کرتے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، دلائی لامہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جو لوگ بھی مسلمانوں کو کسی نہ کسی طریقے سے ہراساں کررہے ہیں،انھیں بدھا ( کی تعلیمات ) کو یاد رکھنا چاہیے۔ بدھا یقینی طور پر ان غریب مسلمانوں کی مدد کرتے۔ میں ان مسلمانوں کے لیے بہت افسردہ ہوں‘‘۔ میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں 25 اگست سے سرکاری سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور ان میں اقوام متحدہ کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ روہنگیا مسلمان مارے گئے ہیں اور کم سے کم تین لاکھ مسلمان پُرخطر سفر کر کے بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔ امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ راکھین سے تشدد سے بچ کر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔

دلائی لامہ نے توڑی چپی، کہا بدھا ہوتے تو وہ روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرتے

بدھ مت مذہب کے روحانی پیشوا دلائی لامہ: فائل فوٹو۔

میانمار میں مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کا یہ نیا سلسلہ مبینہ طور پر روہنگیا مزاحمت کاروں کے اپنے دفاع میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی چوکیوں پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی نسلی اقلیت کے خلاف پرتشدد مظالم کو رکوانے کے لیے یہ حملے کررہے ہیں لیکن اس کے رد عمل میں میانمار کی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی شروع کردی تھی ۔اب روہنگیا مزاحمت کاروں نے یک طرفہ طور پر غیر علانیہ جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز