امریکی سفارتخانہ کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلہ میں تاخیر متوقع

Jun 01, 2017 04:05 PM IST | Updated on: Jun 01, 2017 04:05 PM IST

واشنگٹن۔  صدر ڈونالڈ ٹرمپ امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے متنازعہ فیصلہ پر ابھی عمل نہیں کریں گے جس کا انہوں نے انتخابی پرچار کے دوران وعدہ کیا تھا۔ دراصل یروشلم فلسطین کا چھینا ہوا علاقہ ہے۔ فلسطین اسے واپس پا کر اسے اپنی راجدھانی بنانا چاہتا ہے۔ ٹرمپ اسرائیل کے دعوی کو ایک طرح سے توثیق کے لئے وہاں سفارتخانہ منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس فیصلہ سے اسرائیل ۔ فلسطین، امن مذاکرات پھر سے شروع کرنے کی ان کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی کیونکہ فلسطینی اس بات کو ہر گز پسند نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے ابھی اس فیصلہ پر عمل درآمد نہیں کیا۔ انہیں کل تک کوئی فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ اس کے لئے انہیں 1995 کے قانون کو فی الحال بے اثر کرنے کے لئے چھ ماہ تک اسے روکنا ہوگا۔

کل ان کے فیصلہ کرنے کی توقع نہیں ہے مگر ہوسکتا ہے کہ وہ ایسا کرکے سب کو چونکا دیں۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ ابھی اس فیصلہ کو ٹال دیں گے حالانکہ ان کی انتظامیہ نے یہ واضح کردیا ہے کہ ٹرمپ اپنے انتخابی وعدہ پر پوری طرح قائم ہیں۔ گو ایسا کرنے کے لئے کوئی مدت طے نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سفارتخانہ کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلہ میں تاخیر متوقع

ڈونالڈ ٹرمپ: فائل فوٹو

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز