دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ، مصر کی مدد کرے گا

Apr 04, 2017 02:44 PM IST | Updated on: Apr 04, 2017 02:44 PM IST

واشنگٹن۔  امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی کی مدد کرنے کا دعوی کیا ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے کل یہاں مصر کے رہنما کے ساتھ ملاقات میں کہا ’میں سب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم صدر السیسی کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسٹر السیسی نے مشکل حالات میں ایک شاندار کام کیا ہے۔ ہم لوگ مصر اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں امریکہ، مصر کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جا سکے۔ مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے سنہ 2013 میں ملک کی قیادت سنبھالنے کے بعد پہلی بار وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا ہے۔وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں ٹرمپ کا السیسی کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ السیسی کی جانب سے باغیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ مصری صدر عبدالفاتح السیسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 'منفرد' شخصیت کے حوالے سے ان کی تعریف کی۔

خیال رہے کہ مصر ایک طویل عرصے سے امریکہ کا وفادار رہا ہے تاہم دونوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی تب بڑھی جب صدر السیسی نے اپنے سیکیولر اور اسلامی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔ ان کے اس اقدام کے جواب میں اوباما انتظامیہ نے 18 ماہ تک مصر کی فوجی امداد بند کر دی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مصر اور امریکہ کے دوطرفہ تعقات کی ازسر نو ابتدا کرنا چاہتے ہیں۔ ستمبر میں نیویارک میں صدارتی مہم کے دوران صدر السیسی سے ملاقات کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ یہی چاہتے تھے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط رابطے ہوں۔ عبدالفاتح السیسی نے ملک میں پہلے جمہوری صدر محمد مرسی کی حکومت کو بحیثیت وزیرِ دفاع سنہ 2013 میں برطرف کر دیا تھا جب ان کے اقتدار کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج ہوا تھا۔ آنے والے مہینوں میں ملک میں مرسی کے حامیوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور تشدد کے نتیجے میں احتجاج کرنے والے ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ مصر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ 60 ہزار افراد کو کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ، مصر کی مدد کرے گا

فوٹو کریڈٹ: رائٹرز

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور اس دوران سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر قانون کی خلاف ورزی کی جس میں جبری گرفتاریاں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔ امریکہ میں موجود ایک گروہ کا کہنا ہے کہ صدر السیسی نے بھی سول اور سیاسی حقوق پر شدید پابندیاں لگائیں ا سے حسنی مبارک کے دور میں کی جانے والی بغاوت سے حاصل ہونے والے فوائد کے اثرات ختم ہو گئے۔

تاہم ہیومن رائٹس واچ کی واشنگٹن میں ڈائریکٹر سارہ مارگن نے اس طریقہ کار پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے 'ایک ایسے وقت میں جب ہزاروں مصری جیلوں میں ہیں اور تشدد پھر سے عام ہے السیسی کو واشنگٹن کے سرکاری دورے کی دعوت دینا مستحکم اسٹریٹیجک تعلقات قائم کرنے کے لیے ایک عجیب راستہ ہے۔' توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں صدور ملاقات میں خطے کے دیگر امور پر بھی بات کریں گے جن میں فلسطین اور اسرائیل امن کے لیے کوششیں اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ شامل ہیں۔ سنہ 2013 سے اب تک سینکڑوں مصری فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن پر جزیرہ نما سینا میں موجود جہادی گروہ نے حملے کیے تھے۔

صدر السیسی کا خیال ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے ایک ارب تین کروڑ کی گذشتہ برس کی فوجی امداد میں اضافے کی ضرورت ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے مستقل بنیادوں پر وافر امداد دینے کا وعدہ کیا ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے بین الاقوامی سطح پر اپنے امدادی بجٹ میں بڑے پیمانے پر کمی کی تجویز بھی دی ہے۔ انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اخوان المسلمین کے بارے میں مصری ہم منصب کے خیالات بھی سننا چاہتے ہیں۔ صدر السیسی چاہتے ہیں کہ اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔ اخوان المسلمین کا اصرار ہے کہ وہ تشدد کے خلاف ہے تاہم اس کی کچھ علاقائی شاخوں نے پرتشدد کارروائیاں کی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز