ورجینیا معاملے میں ڈونالڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا

Aug 17, 2017 06:18 PM IST | Updated on: Aug 17, 2017 06:18 PM IST

واشنگٹن۔ ورجینیا میں ہوئی پرتشدد جھڑپ کیلئے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دونوں اطراف کو ذمہ دار قرار دینے والے بیان کی ریپبلکن پارٹی کے سینئر لیڈروں اور معاون ملک برطانیہ نے تنقید کی ہے۔ امریکی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کے لیڈر مچ میک کونیل نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے مسٹر ٹرمپ کا نام لئے بغیر کہا ’نفرت اور شدت پسندی کے پیغام کا امریکہ میں کہیں بھی خیرمقدم نہیں کیا جانا چاہئے۔ ہم نفرت پھیلانے والے کسی بھی نظریہ کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ نفرت اور تشدد کے خلاف متحد ہونا ہماری ذمہ داری ہے۔‘ واضح رہے کہ مسٹر ٹرمپ نے پیر کو ایک بیان میں سفید فام نسل پرستوں کی مذمت کی تھی، تاہم منگل کو نیویارک میں انھوں نے بائیں بازو کے دھڑوں کو بھی قصور وار ٹھہرایا اور کہا کہ انھوں نے ’آلٹ رائٹ‘ (دائیں بازو کے انتہاپسند) پر دھاوا بولا تھا۔

شارلٹس ول شہر میں ہونے والے ان مظاہروں میں ایک خاتون ہلاک اور متعدد دوسرے زخمی ہو گئے تھے۔ ان ہنگاموں میں ہیتھر ہائر نامی 32 سالہ خاتون اس وقت ہلاک ہو گئی تھیں جب ایک شخص نے ان پر کار چڑھا دی تھی۔ صدر ٹرمپ کو اس بیان کے لیے شدید تنقید کا سامنا ہے اور مبصرین کے مطابق اس سے انھیں دور رس نقصان ہو سکتا ہے۔ نمایاں رپبلکن رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر اس حوالے سے تنقید کی ہے۔ ایوانِ نمائندگان کے رپبلکن اسپیکر پال رائن نے کہا کہ یہ بات واضح کرنا اہم ہے کہ سفید فام نسل پرستی نفرت انگیز ہے۔ رپبلکن سینیٹر جان میک کین نے ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ ’نسل پرستوں اور ان امریکیوں کے درمیان کوئی اخلاقی مطابقت نہیں ہے جو نفرت اور تعصب کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں۔‘ ایریزونا کے سینیٹر جیف فلیکس نے کہا ہے کہ سفید فام نسل پرستی کے لیے بہانے قابلِ قبول نہیں ہیں۔

ورجینیا معاملے میں ڈونالڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ: فائل فوٹو

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ سفید فام نسل پرستوں میں بھی اچھے لوگ موجود ہیں۔ اگر ان کی جانب سے نسل پرستوں کی مذمت میں تاخیر نے ایک سیاسی آگ بھڑکائی تھی تو منگل کو انھوں نے اس آگ پر تیل کی بالٹی پھینک دی ہے اور وہ شعلوں کے گرد ناچ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اخباری کانفرنس میں ایک نامہ نگار کو مخاطب کر کے کہا: ’بائیں بازو کے ان انتہا پسندوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو دائیں بازو والوں پر ڈنڈے لے کر چڑھ دوڑے تھے؟ کیا انھیں کوئی پچھتاوا ہے؟‘ ٹریڈ یونین فیڈریشن کے صدر رچرڈ ٹرمکا نے صدر ٹرمپ کی امیریکن مینوفیکچرنگ کونسل کے عہدے سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا ہے کہ وہ ’ایک صدر کے لیے جو تعصب اور تشدد برداشت کرتا ہو‘ کام نہیں کر سکتے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما چک شومر نے ٹویٹ کیا: ’عظیم اور اچھے امریکی صدر متحد کرتے ہیں، تقسیم نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ان میں سے نہیں ہیں۔‘

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز