امریکہ میں تاریخ کی سب سے طویل کام بندی، ایمرجنسی لگا دینے کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے کہا وہ عجلت میں نہیں

Jan 12, 2019 09:54 PM IST | Updated on: Jan 12, 2019 10:20 PM IST

میکسیکو کی سرحد پردیوار کی تعمیر کے لیے 5 ارب70 کروڑ ڈالر فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے امریکی کانگریس کے مبینہ انکار سے پیدا صورتحال میں امریکہ میں تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن آج 22 ویں دن میں داخل ہو گیا۔

وفاقی حکومت کے 8 لاکھ ملازمین تنخواہوں سے محروم بتائے جاتےہیں۔ صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نےاگرچہ کانگریس کی منظوری کے بغیر فنڈ حاصل کرنے کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی دیدی تھی لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سر دست وہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی حالات کا اعلان کرنے پر غور نہیں کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اتنی عجلت میں نہیں ہیں۔

امریکہ میں تاریخ کی سب سے طویل کام بندی، ایمرجنسی لگا دینے کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے کہا وہ عجلت میں نہیں

ڈونالڈ ٹرمپ ۔ فائل فوٹو

امریکی صدر کے مطالبے پر دیوار کی تعمیر کے لیے 5 ارب70 کروڑ ڈالر فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے سے کانگریس کےمبینہ طور پر انکار پربظاہر ردعمل میں صدر نے بھی سرکاری اداروں کے لئے پیش بجٹ پر دستخط سے انکارکردیا۔

بجٹ کی عدم منظوری کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف انویسٹگیشن(ایف بی آر) کے ایجنٹس، ایئر ٹریفک کنٹرولر اور میوزیم کے ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں۔خبروں کے مطابق 8 لاکھ ملازمین میں سے ساڑھے 3لاکھ ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجا جاچکا ہے جبکہ بقیہ ملازمین بغیر تنخواہوں کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

Loading...

ڈیموکریٹس اراکین کی اکثریت پر مشتمل امریکی ایوانِ نمائندگان نے شٹ ڈاؤن کے باعث بند ہوجانے والے کچھ وفاقی اداروں کو فنڈز جاری کرنے کے لیے بل منظور کرلیا۔اس بل کی منظوری سے فنڈنگ سے محروم وفاقی اداروں میں سے دو اداروں محکمہ داخلہ اور تحفظ ماحولیات ایجنسی کے فنڈز بحال ہوجائیں گے۔

باقی ملازمین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ تنخواہیں نہ ملنے سے انہیں سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔متاثر اداروں کے ملازمین اپنے گھروں کا سامان بیچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔یہ شٹ ڈاؤن میکسکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لئے کانگریس کی طرف سے فنڈجاری نہ کرنے پرمسٹر ٹرمپ اور ڈیموکریٹس کے درمیان پیدا ہونےوالی رسہ کشی کا نتیجہ ہے۔

شٹ ڈاؤن کا آج 22 واں دن ہے ۔ اس سے قبل سابق صدر بل کلنٹن کے دورِ حکومت میں 96-1995 میں طویل ترین شٹ ڈاؤن ہوا تھا جس کی مدت 21 دنوں کی تھی۔ ٹرمپ نے ایمرجنسی کے نفاذ کو ’آسان راِہِ فرار‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ براہ راست قومی ہنگامی صورت حال کی سمت میں آگے بڑھنے نہیں چاہتے۔ تاہم انہوں نے زور دیکر کہا کہ انہیں یہ قدم اٹھانے کا آئینی حق حاصل ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی قانون سازوں کے ساتھ بات چیت اور مالیاتی بل پر ووٹنگ کے ذریعہ اس اس معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔کانگریس کو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر کے فنڈز منظور کرنے ہوں گے۔

ڈیموکریٹس بھی اپنے اقدام پر ڈٹے نظر آرہے ہیں ۔ وہ سرحدی دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری کرنے پر آمادہ نہیں ۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کریگ لسٹ نامی اشتہاری ویب سائٹس پر کم قیمت میں اپنا ذاتی سامان فروخت کرنے والوں کے اشتہارات کا انبار لگ گیا۔لوگ بچوں کے کھلونوں سے لے کر بستروں تک فروخت کرنے کے اشتہار ڈال رہے ہیں جن کے لیے ’حکومتی شٹ ڈاؤن اسپیشل‘نامی کیٹیگری بنائی گئی ہے۔

کئی لوگوں نے مالی مشکلات کے سبب بے روزگاری کا وظیفہ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دینی بھی شروع کردی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں کچھ فوڈ بینکس تنخواہوں سے محروم لوگوں کو مفت کھانا بھی مہیا کررہے ہیں۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز