ایران سے معاہدے کی غلطیوں کو دور نہ کرنے پر ٹرمپ کا ’آخری‘ انتباہ

واشنگٹن۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ایک بار پھر ایران سے متعلق نیوکلیائی معاہدہ کے بارے میں بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر عائد نیوکلیائی پابندیوں میں آخری مرتبہ چھوٹ دے رہے ہیں۔

Jan 13, 2018 08:25 PM IST | Updated on: Jan 13, 2018 08:25 PM IST

واشنگٹن۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ایک بار پھر ایران سے متعلق نیوکلیائی معاہدہ کے بارے میں بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر عائد نیوکلیائی پابندیوں میں آخری مرتبہ چھوٹ دے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ تیسری اور آخری مرتبہ ان تعزیرات پر چھوٹ دے رہے ہیں تا کہ کانگریس اور یورپی اتحادی 120 روز میں ایران سے جوہری معاہدے میں بہتری لائیں بصورت دیگر امریکہ اس معاہدے سے علیحدہ ہو جائے گا۔

صدر کی طرف سے "معاہدے کے تباہ کن نقائص" کو دور کرنے کی تجاویز میں ایران کو اپنی تمام جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کو رسائی دینے کے ساتھ ساتھ تہران کی طرف سے یہ یقین دہانی حاصل کرنا بھی شامل ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ وہائٹ ہاوس کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے میں اس کے بیلسٹک میزائلوں کا بھی احاطہ ہو گا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ "ایسے معاہدے کی عدم موجودگی میں امریکہ تعزیرات میں نرمی نہیں کرے گا۔ اور اگر کسی موقع پر اسے یہ محسوس ہوا کہ ایسے معاہدے کی پاسداری نہیں ہو رہی تو میں فوراً اس معاہدے سے علیحدہ ہو جاوں گا۔"

ایران سے معاہدے کی غلطیوں کو دور نہ کرنے پر ٹرمپ کا ’آخری‘ انتباہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ: فائل فوٹو، رائٹرز۔

دریں اثنا ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے "ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیا۔" خیال رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ایران کے چند کاروباری شعبوں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان میں 14 ادارے اور شخصیات شامل ہیں۔ان میں قابل ذکر ایران کی عدلیہ کے سربراہ صادق آملی لاریجانی ہیں۔ پابندی کا نشانہ بننے والے دیگر اداروں میں پاسداران انقلاب کا سائبر یونٹ بھی شامل ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق عوام کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود بنا رہا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز