ٹرمپ کا پیرس ماحولیاتی معاہدہ سے باہر نکلنے کا اعلان ، ڈیموکریٹک سینیٹر نے بدترین خارجہ پالیسی قراردیا

Jun 02, 2017 11:11 AM IST | Updated on: Jun 02, 2017 11:11 AM IST

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج تاریخی پیرس ماحولیاتی تبدیلی معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں کہاکہ "ہم پیرس معاہدے سے باہر نکل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیرس معاہدہ امریکہ پر سخت مالیاتی اور اقتصادی بوجھ ہے"۔ انہوں نے کہا کہ" امریکہ اور اس کے شہریوں کی حفاظت کرنا میرا حتمی فرض ہے، لہذا امریکہ پیرس معاہدہ سے باہر نكل جائے گا۔ ہم اس معاہدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور دوبارہ بات چیت شروع کریں گے"۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے سلسلے میں پیرس معاہدے میں امریکی مفادات کے لئے ایک مناسب سمجھوتہ ہو۔ اس معاہدے سے باہر نکلنے کے بعد امریکہ شام اور نكارگوا کی طرح پیرس موسمیاتی معاہدے سے باہر نکلنے والے ممالک کی صفوں میں شامل ہو گیا ہے۔ امریکہ چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والا ملک ہے۔

ٹرمپ کا پیرس ماحولیاتی معاہدہ سے باہر نکلنے کا اعلان ، ڈیموکریٹک سینیٹر نے بدترین خارجہ پالیسی قراردیا

گزشتہ سال ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار رہ چکے بیرني سینڈرز نے کہا ہے کہ "اس وقت جب موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی دنیا بھر میں تباہ کن نقصانات پیدا کر رہی ہے، ہمارے پاس مستقبل کی نسلوں کے لئے اس سیارے کو محفوظ رکھنے کی کوششوں سے پیچھے ہٹنا اخلاقی حق نہیں ہے"۔

ڈیموکریٹک سینیٹر شیلڈن وہائٹ ہاؤس نے کہا کہ حقیقت کو نظر انداز کرکے پیرس معاہدے سے باہر نکلنے کا فیصلہ ہمارے ملک کی تاریخ میں بدترین خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں سے ایک ہے۔ ٹرمپ کے یورپی دورے اور اس فیصلے کے بعد امریکہ عالمی برادری میں الگ تھلگ پڑ سکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سال 2015 میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدہ ہوا تھا ، جس پر تقریبا 200 ممالک نے اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر اقسام کی گیس کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت امریکہ نے 2025 تک 2005 کی سطح سے اپنے اخراج کو 26 سے 28 فیصد کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز