اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچے امریکی صدر ٹرمپ ، طوق عبدالعزیز السعود سے سرفراز

May 20, 2017 02:49 PM IST | Updated on: May 20, 2017 09:15 PM IST

ریاض: سعودی عرب ،اسرائیل اور پھر ویٹی کن سٹی کے دورے کے ساتھ اپنے پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ آج سعودی راجدھانی ریاض پہنچ گئےجہاں کل وہ امریکہ عرب اسلامک چوٹی کانفرنس سے ’اسلام کے پر امن وژن کے لیے امیدیں‘ کے موضوع پر خطاب کریں گے۔ انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر سیکیورٹی پارٹنرشپ تشکیل دینے کے لیے منعقد ہونے والی اس پہلی امریکا عرب اسلامی کانفرنس میں کل 54 اسلامی ممالک کے سربراہان شرکت کررہے ہیں۔

یہاں آج اور کل مجموعی طور پر تین اہم چوٹی کانفرنسیں ’’ ٹوگیدر وی پریویل‘‘ یعنی ’’ہم ملکرہوں گے کامیاب‘‘ عنوان کے تحت ہو رہے ہیں۔ ان میں’’ امریکہ، سعودی عرب‘‘، ’’خلیجی ممالک اور امریکہ‘‘ اور’’ عرب اسلامی دینا اور امریکہ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ان تمام کا مقصد مل کر عالمی امن، گہرے اقتصادی تعاون سمیت تعمیری سیاسی اور ثقافتی تعاون کو 'ہم ملکرہوں گے کامیاب ' کے نعرے کے تحت عملی جامہ پہنانا ہے۔

اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچے امریکی صدر ٹرمپ ، طوق عبدالعزیز السعود سے سرفراز

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا خصوصی طیارہ ’ایئرفورس ون‘ مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجکر 50 منٹ پرجب ریاض ایئرپورٹ پر اترا توان کے استقبال کے لیے سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز خود بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے جبکہ ٹرمپ اور ان کے وفد کے لیے ریڈ کارپٹ استقبال کی تیاریاں کی گئی تھیں۔ رائل کورٹ میں سعودی شاہ نے مسٹر ٹرمپ کے گلے میں طوق عبدالعزیز السعود پہنایا جو اعلیٰ ترین غیر فوجی سعودی اعزاز ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے غیر ملکی دورے میں ان کی اہلیہ کے علاوہ ان کے بیٹی اور صدارتی مشیر ایوانکا ٹرمپ اور داماد جیریڈ کوشنر بھی شامل وفد ہیں۔

امریکی صدر کے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے مسلم ملک سعودی عرب کے انتخاب کے فیصلے کو سفارتی حلقوں میں دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے ۔اسلام کے تعلق سے ڈونالڈ ٹرمپ کا خطاب کیسا رہے گا اس بابت بھی کافی تجسس پایا جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پرمذکورہ کانفرنس کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے کہا گیا ہےکہ ’’امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسلامی ممالک کے سربراہان اپنی ملاقات میں دنیا بھر میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات پر قابو پانے اور بہتر سیکیورٹی تعلقات کے قیام کو یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کریں گے‘‘۔

مسٹر ٹرمپ کی جانب سے اپنے اولین دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب مسلم ملکوں کے ساتھ امریکا کے تعلقات کو از سر نو مرتب کر سکتا ہے۔سابق امریکی صدر بارک اوباماہ کے دور اقتدار کے آخری دنوں میں سعودی امریکی تعلقات میں بظاہر دوری پیدا ہو گئی تھی۔بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کی ایک وجہ یمن، شام اور ایران کے تعلق سے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز