شمالی کوریا کے ساتھ دوسری طرح سے پیش آنا ہوگا: ٹرمپ

واشنگٹن۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر شمالی کوریا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ماضی کی حکومتیں اس کے(شمالی کوریا) کے ساتھ گزشتہ25سال سے بات چیت کرتی رہی ہیں۔

Oct 08, 2017 03:47 PM IST | Updated on: Oct 08, 2017 03:47 PM IST

واشنگٹن۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر شمالی کوریا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ماضی کی حکومتیں اس کے(شمالی کوریا) کے ساتھ گزشتہ25سال سے بات چیت کرتی رہی ہیں۔ لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ان کے ساتھ دوسری طرح سے پیش آنا ہوگا۔

مسٹر ٹرمپ نے ہفتہ کو ٹوئٹ کرکےکہا -’’ ہماری گزشتہ حکومتوں نے شمالی کوریا کے ساتھ معاہدوں کیلئے بات چیت کی اور اس پر کروڑوں روپے بھی خرچ کئے گئے،لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ قلم کی روشنائی خشک ہونے سے قبل ہی معاہدوں کی خلاف ورزی ہوتی رہی۔ یہ کوریائی ملک اس معاملہ میں ہمارے ملک کو بے وقوف بناتا رہا ،یہ نہایت افسوسناک ہے‘‘۔

شمالی کوریا کے ساتھ دوسری طرح سے پیش آنا ہوگا: ٹرمپ

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کی فائل فوٹو۔ رائٹرز۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ او ر شمالی کوریا کے ساتھ معاہدے ہوئے ،لیکن ساتھ ساتھ اس کی خلاف ورزیاں بھی ہوتی رہیں۔ میں معافی کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ اب اس ملک کے ساتھ دوسری طرح سے پیش آنا پڑے گا۔ صدر نے کہا-’’اتنے برسوں سے معاہدوں پر کوئی کام نہیں ہوا ہے ، صرف اس کی خلاف ورزی ہی ہوئی ہے اور ہمارے مذاکرات کاروں کو بری طرح سے بے وقوف بنایا گیا ہے۔ اب اس کے ساتھ صرف ایک ’چیز‘کام کرے گی‘‘۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ کس طرف اشارہ کررہے ہیں اور وہ ایک ’چیز‘کیا ہے۔صدر پہلے بھی متنبہ کر چکے ہیں کہ بار بار نیوکلیائی تجربہ کرنے والا شمالی کوریا اگر کوئی غلط قدم اٹھاتا ہے تو اسے بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

مسٹر ٹرمپ نے کہا-’’اگر شمالی کوریا ،امریکہ اور اس کے حامی ممالک کو نقصان پہنچانے والی کوئی کارروائی کرتا ہے تو اپنی اور اپنے دوست ممالک کی حفاظت اور مفادات میں قدم اٹھاتے ہوئے اس کو نیست و نابود کردیا جائے گا‘‘۔ شمالی کوریا نے بھی اپنے نیوکلیائی تجربات پر سوال اٹھائے جانے پر بار بار امریکہ کو دھمکی دی ہے اور اسے راکھ میں تبدیل کرنے کی دھمکی تک دے ڈالی ہے۔ مسٹر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے آمر کم جونگ ان کے درمیان بیان بازی کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ تمام عالمی دباؤ کے باوجود شمالی کوریا اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کے تجربات کرنا نہیں روک رہا ہے۔ حال ہی میں اس نے جاپان پر ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، تاہم یہ میزائل ہوکائیڈوکے بحرالکاہل میں گر گیا۔ جاپان نے شمالی کوریا کی اس حرکت پر سخت احتجاج کیا۔ جاپان نے کہا تھا کہ یہ میزائل اسپیشل اکنامک زون میں جا کر گرا۔

شمالی کوریا نے اس ٹسٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے ۔شمالی کوریا کی سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے کہا-’’اس ٹسٹ کا مقصد امریکہ کے ساتھ تنازع کو ٹھنڈا کرنا ہے۔ اس نے حال ہی میں ہمارے خلاف فوجی حملہ کی دھمکی دی ہے۔ ہم طاقتور فوجی مزاحمت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اس کیلئے نیوکلیائی ہتھیاروں کا تجربہ اور حقیقی جنگ کے دوران اس کے استعمال کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں‘‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز