زلزلہ متاثرین کا ایرانی حکومت پر مدد نہ پہنچانے کا الزام

Nov 15, 2017 12:40 PM IST | Updated on: Nov 15, 2017 12:42 PM IST

انقرہ۔  ایران میں اتوار کو آئے شدید زلزلے میں اپنے پیاروں کو کھونے کے بعد اب لوگوں کو شدید سردی، بھوک اور امدادی سامان کی سخت قلتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زلزلہ اور موسم کی دوہري مار جھیل رہے ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان تک مدد پہنچنے میں بہت تاخیر ہو رہی ہے۔ ایرانی حکام نے منگل کو ریسکیو آپریشن کو اس بنیاد پر روک دیا تھا کہ اتنے وقت بعد کسی کے زندہ بچنے کا امکان نہیں ہے۔ ایران میں گزشتہ ایک دہائی میں یہ سب سےخوفناک زلزلہ تھا جس میں کم از کم 530 افراد ہلاک ہوگئے اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلہ کا سب سے زیادہ اثر کرمان شاہ صوبے کے کئی شہروں اور دیہات میں پڑا ہے اور زندہ بچ جانے والوں کو اب خوراک، پانی اور ٹھکانے کے مسئلہ سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔

افرسان کے مطابق اس تباہ کن زلزلہ میں کم از کم 30 ہزار مکان تباہ ہو گئے ہیں اور 24 گاؤں مکمل طور زمین دوز ہو گئے ہیں۔ ایران نے بیرون ملک سے آنے والے مدد کو لینے سے انکار کر دیا ہے۔امریکہ نے اس سانحہ پر رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے-’’شمالی ایران اور عراق میں آئے خوفناک زلزلہ سے ہلاک شدگان کے تئیں ہم اپنی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور امریکہ کو ابھی تک ایران یا عراقی حکومت سے مدد کی اپیل نہیں ملی ہے‘‘۔

زلزلہ متاثرین کا ایرانی حکومت پر مدد نہ پہنچانے کا الزام

ایک خاتون رضا نے بتایا "اس رات میرے ایک واقف کارکی سالگرہ تھی اور ہم سب وہاں جمع تھے اور اچانک زلزلے میں سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔: تصویر، بی بی سی۔

اس زلزلہ میں اپنے خاندان کے دس لوگوں کو کھونے والی مریم اهانگ نے بتایا "ہم سب لوگ بھوکے ہیں اور سردی کے مارے برا حال ہے، ہمارے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانا نہیں ہے اور میں کل رات بھی کھلے پارک میں سوئی تھی‘‘۔ ایران کے سپریم مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے کل تمام ایجنسیوں کو امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کا حکم دیا۔ صدر حسن روحاني نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ جلد سے جلد ان مسائل کو حل کر لیا جائے گا۔ ہزاروں لوگ اب بھی عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور کئی لوگوں نے زلزلہ کے مزید جھٹکے کو دیکھتے ہوئے کل رات بھی کھلے میں گزاری۔

ایک خاتون رضا نے بتایا "اس رات میرے ایک واقف کارکی سالگرہ تھی اور ہم سب وہاں جمع تھے اور اچانک زلزلے میں سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ اس پروگرام میں 50 لوگ موجود تھے اور تمام ہلاک ہو گئے ۔ہم لوگوں کو کھلے میں رات گزارني پڑ رہی ہے‘‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز