آسام میں عسکریت پسندوں نے بنگالی زبان کے 5 نوجوانوں کا کیا قتل ، ممتا نے این آر سی سے جوڑا معاملہ

آسام میں عسکریت پسندوں نے بنگالی زبان کے 5 نوجوانوں کا قتل کر دیا لائن میں کھڑا کیا اور پھر ایک ۔ ایک کرکے ماردی گولی۔

Nov 02, 2018 08:04 AM IST | Updated on: Nov 02, 2018 08:23 AM IST

آسام کے تنسکیا ضلع میں جمعرات کی شام کو5 بنگالی زبان کے نوجوانوں کا گولی مارکر قتل کر دیا۔ اس قتل میں الفا (آئی )عسکریت پسندون کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔ حالانکہ الفا نے اس سے انکار کیا ہے۔ یہ واقعہ کھیر باڑی گاؤں کا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ مارے گئے نوجوان بنگالی شہریت کے تھے۔ مارے گئے لوگ دکان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی وقت دہشت گرد تنظیم کے لوگ وہاں آئے اور انہیں برہمپتر ندی کے کنارے لے گئے۔افسران نے بتایا کہ مشتبہ دہشت گردوں نے نوجوانوں کو لائن میں کھڑا کیا اور ایک ۔ ایک کرکے گولی ماردی۔ واقعے کے بعد پولیس اور فوج موقع پر پہنچی۔

وزیر اعلی سرونند سونے وال نے واقعے سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے وزیر کیشو مہنت اور تپن کمار گگوئی کو معاملے کی جانکاری لینے کیلئے موقع پر روانہ کر دیا۔

آسام میں عسکریت پسندوں نے بنگالی زبان کے 5 نوجوانوں کا کیا قتل ، ممتا نے این آر سی سے جوڑا معاملہ

ابھی تک کی جانکاری کے مطابق حملہ دہشت گرد تنظیم (الفا (آئی ) کی جانب سے کیا گیا ہے۔

انہوں نے ڈی جی پی کلا سیکیا اور اے ڈی پی مکیش اگروال کو بھی جائے حادثہ پر جانے کو کہا ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ وصورواروں کو بخشا نہیں جائے گااور ان سے سختی سے پیش آیا جائے گا۔

Loading...

مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے قتل معاملے کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس قتل کو این آر سے سے جوڑا ہے۔ ممتا نے ٹویٹ کیا " آسام سے بری خبر آ رہی ہے۔ ہم تنسکیا میں ہوئے اس بربریت حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ کیا یہ اینر سی کا نتیجہ ہے؟

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز