مغربی بنگال تشدد : آر ایس ایس کارکنوں کے خلاف آگ زنی سمیت مسلمانوں کے گھر میں توڑ پھوڑ کے 68 کیسز درج

مغربی بنگال کئی علاقوں میں جمعرات کو تشدد بھڑکنے کے بعد مقامی مسلم لیڈروں نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام لگایا ہے

Jul 07, 2017 10:16 AM IST | Updated on: Jul 07, 2017 10:16 AM IST

بشیر ہاٹ : مغربی بنگال کئی علاقوں میں جمعرات کو تشدد بھڑکنے کے بعد مقامی مسلم لیڈروں نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام لگایا ہے ۔ مسلم لیڈروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی موجودگی کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف ملک بھر میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی لیڈروں نے پولیس کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس بھی کچھ نہیں کرتی ہے ۔ اگر ان سے شکایت کی جاتی ہے تو وہ ہمیں ہی گرفتار کر لیتے ہیں ۔

دریں اثنا جن ستتا کی ایک رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کے کارکنوں پر الزام لگا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے ۔ آر ایس ایس کارکنوں کے خلاف آگ زنی کے علاوہ مسلمانوں کے گھر میں توڑ پھوڑ کرنے کے 68 کیسز درج کئے گئے ہیں ۔

مغربی بنگال تشدد : آر ایس ایس کارکنوں کے خلاف آگ زنی سمیت مسلمانوں کے گھر میں توڑ پھوڑ کے 68 کیسز درج

(Photo Source: PTI)

ایک مقامی مسلم رہنما نے کہا کہ کئی سالوں سے دونوں برادری کے لوگ ایک ساتھ رہ رہے تھے لیکن کچھ عرصے سے دونوں میں کافی کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ ایک مذہبی تنظیم کے صدر عبد المتين کے مطابق ان علاقوں میں پہلے کبھی بھی آر ایس ایس متحرک نہیں ہوا تھا ، لیکن اب بی جے پی اور آر ایس ایس کی علاقوں میں موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست اور ملک میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں ۔ ان لوگوں کی وجہ سے ملک کا مسلمان خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز