سبھی الزامات بے بنیاد ، ہمیں عدالتی و جمہوری نظام پر یقین ، پابندی کا مقابلہ کریں گے : پاپولر فرنٹ آف انڈیا

Nov 01, 2017 11:29 PM IST | Updated on: Nov 01, 2017 11:30 PM IST

کلکتہ :  ہندوستان کے جمہوری اورعدالتی نظام پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے آج ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے تمام الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ چند میڈیا ہاؤسیس اور مرکزی خفیہ ایجنسیاں ایک سازش اور منصوبے کے تحت انہیں بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ انہیں کامیابی نہیں ملے گی اور عدالت میں ہم سرخرو ثابت ہوں گے ۔ کلکتہ شہر کے قلب میں واقع رانی راش منی میں اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیاکے سربراہ عبد الواحد شیخ نے کہا کہ مرکزی ایجنسیوں کی طرف سے ان پر اب تک جوبھی الزامات عاید کیے گئے ہیں اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔

کیرالہ ہائی کورٹ نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چند میڈیا ہاؤسیس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا مسلم نوجوانوں کو داعش جیسی خطرنات تنظیموں کیلئے ٹریننگ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف مرکزی وزارت داخلہ کا دعویٰ ہے کہ داعش کی طرف مسلم نوجوانوں کا رجحان نہیں ہے دوسری طرف ہمارے اوپر ٹریننگ کیمپ چلانے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایجنسی آج تک یہ ثابت نہیں کرپائی ہے کہ پاپولر فرنٹ کہیں پر ٹریننگ کیمپ چلارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں ہمارے یوگا کیمپ پر چھاپہ مارا گیا اور ہمارے نوجوانوں کوگرفتار کرکے دہشت گردی مخالف ایکٹ لگادیے گئے مگر ہمیں چوں کہ عدالتی نظام پر مکمل یقین ہے ۔اس لیے عدالت نے ہمارے نوجوانوں پر سے دہشت گردی کے ایکٹ کو ہٹادیا ۔

سبھی الزامات بے بنیاد ، ہمیں عدالتی و جمہوری نظام پر یقین ، پابندی کا مقابلہ کریں گے : پاپولر فرنٹ آف انڈیا

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی ایک ریلی کی تصویر

عبدا لواحد شیخ نے کہا کہ تیسر ا سب سے بڑا الزام ہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا ’’لو جہاد‘‘ کی مہم میں شامل ہے اور ایک مہم کے تحت ہندؤ لڑکیوں کی مسلم نوجوانوں سے شادی کرائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خود کیرالہ کے ڈی آئی جوزف نے عدالت سے کہا ہے کہ ریاست میں لوجہاد جیسی کوئی مہم نہیں چل رہی ہے اور یہ صرف پروپیگنڈا سے حد تک کچھ نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ کرناٹک حکومت نے بھی اسی طرح کی رپورٹ دی ہے ۔ تاہم پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے کہا کہ ملک کے ایک شہری کی حیثیت سے آئین نے ہمیں اپنے من پسند کے مذہب پر عمل کرنے اجازت دی ہے اس لیے ہم اس حق کی بہر صورت حفاظت کریں گے اور کوئی بھی ہمارے اس حق کو چھین نہیں سکتا ہے۔

عبد الواحد شیخ نے کہا کہ ایک مہینے قبل ہی کنور میں بی جے پی کے دفتر سے بڑے پیمانے ہتھیار برآمد ہوئے ، میڈیا میں خبریں بھی آئیں مگر کسی بھی توجہ اس جانب نہیں گئی آخر ایک سیاسی جماعت کو ہتھیاروں کی ضرورت کیوں آن پڑی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سے آج تک کوئی بھی ہتھیار کیا لاٹھی اور ڈنڈا ضبط نہیں کیا گیا ہے اس کے باوجود ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔جب کہ بی جے پی کے دفتر سے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں تو میڈیا اس کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں اور خود صفائی دے رہی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز