صنفی حقوق کی معروف وکیل فلاویا اگنیس نے کہا : مسلم سماج میں طلاق کی شرح سب سے کم ، تین طلاق کوئی مسئلہ نہیں

Apr 30, 2017 09:07 PM IST | Updated on: Apr 30, 2017 09:07 PM IST

کلکتہ: میڈیا پر مسلمانوں کی غلط شبیہ پیش کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے صنفی حقوق کی مشہور وکیل اور مجلس منچ کی ڈائریکٹر ایڈوکیٹ فلاویا اگنیس نے آج کہا ہے کہ تین طلاق کے ایشو کو سیاسی جماعت بالخصوص بی جے پی اور میڈیا میں اس طرح سے پیش کیا جارہا ہے کہ جیسے دنیا کی تمام مسلم خواتین تین طلاق کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہیں اس کوحل کیے بغیر مسلمان ترقی یافتہ نہیں ہوسکتے ہیں ۔جب کہ یہ حقیقت کے سراسر منافی ہے او ر تین طلاق مسلمانوں کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ مسلم سماج میں طلاق کی شرح دوسری تمام کمیونیٹی سے کم ہے ۔

عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت اور ایسوسی ایشن اسنیپ کے اشتراک سے منعقد سیمینار خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ فلاوییا اگنیش نے مسلم پرسنل لا اور ہندو میرج ایکٹ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا اپنا مکمل نظام ازدواج ہے ۔ اس کی چند ایسی خوبیاں ہیں جسے دو سرے مذاہب نے کئی صدیوں کے بعد اختیار کیا کہ انہوں نے کہا کہ اسلام اول دن سے ہی جائداد میں لڑکیوں کو حق دینے کی وکالت کی ہے مگر ہندؤں میں ہندوستان کی آزادی کے بعد بننے والے قوانین میں والدین کی جائداد میں بیٹیوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔اسی طرح ہندؤں کے قوانین کے مطابق شادی معاہدہ نہیں ہے بلکہ کنیادان ہے ۔یعنی خواتین کے کوئی حقوق نہیں ہوتے ہیں ۔

صنفی حقوق کی معروف وکیل فلاویا اگنیس نے کہا : مسلم سماج میں طلاق کی شرح سب سے کم ، تین طلاق کوئی مسئلہ نہیں

file photo

سات جنموں کے رشتہ ہوتا ہے جسے علاحدہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا مگر اسلامی قوانین میں اول دن سے ہی خواتین کو بھی اپنے شوہر سے خلع لینے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ آج میڈیا میں گھریلو تشدد کی شکار خواتین کے مسائل پر بات چیت نہیں ہورہی ہے۔ فلاویا اگنیس نے کہا کہ تین طلاق پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم خواتین کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے ۔انہیں اپنے حقوق سے متعلق امور معلوم ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد ، شوہر کی زیادتی جیسے مسائل ایسے ہیں جس سے تمام طبقات کی خواتین کو مسائل کا سامنا ہے ۔مگر اس پر کوئی بات چیت نہیں کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی حقیقت کا علم نہیں ہے یا پھر جان بوجھ کر غیر ضروری ایشوز میں عوام کو مشغول رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔

اس سے قبل سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے عالیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ابو طالب خان نے میڈیا کو چوتھا ستون بتاتے ہوئے کہا کہ آج میڈیا زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے ۔اس کے بغیر زندگی نامکمل ہے ۔ایسے میں اگر میڈیا اگر غلط روش اختیار کرے گا سماج و معاشرہ میں فساد کا برپا ہونا لازمی ہے ۔اس لیے میڈیا کو اخلاقی اقدار پر توجہ دینے چاہیے۔انہوں نے کہا کہہ ہندوستان کے تمام طبقات کو یکساں حقوق اور مواقع ملے تو کوئی بھی ترقی کرسکتا ہے ۔

سی این این نیوز 18کی ڈپٹی پولیٹیکل ایڈیٹر ماریہ شکیل نے انتخابی رپورٹنگ اور اقلیتوں کے سوال کے عنوان سے کہا کہ میڈیا میں ان دنوں ایشوز کو ہائی جیک کیا جارہا ہے ۔مارکیٹنگ کے تقاضے کے مطابق ایشوز کو اٹھایا جاتا ہے ۔انہوں حالیہ اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پنجاب میں 30فیصد آبادی دلتوں کی ہیں مگر انتخابی مہم میں اس مسئلے پر کوئی با ت چیت نہیں ہوئی ۔ عالیہ یونیورسٹی کے سیمینار میں ممبر پارلیمنٹ وبنگلہ روزنامہ کے ایڈیٹر احمد حسن عمران، دی ہندو کے بیورو چیف سووجیت باگچی، مشہور کالم فیض الرحمن اور ایڈوکیٹ شاہد امام نے بھی خطاب کیا۔جب کہ عالیہ یونیورسٹی کے صدر شعبہ صحافت غزالہ یاسمین اور استاذ ریاض احمد اس سیمینار کی نظامت کی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز