افراز الاسلام کے قاتل شمبھولال کے خلاف مقدمہ کو کلکتہ منتقل کیا جائے: بیٹی کا مطالبہ

Dec 12, 2017 09:13 PM IST | Updated on: Dec 12, 2017 09:13 PM IST

کالیا چک (مغربی بنگال)۔ اس مطالبے کے ساتھ کہ افرازالاسلام کے قاتل کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے بار بار راجستھان جانا کافی مشکل ہے، راجستھان کے راجسمند ضلع میں لوجہاد کے نام پر مارے گئے افرازالاسلام کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کے خاندان کے پاس بار بار راجستھان جانے کی طاقت  نہیں ہے اس لیے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پورے معاملے کو کلکتہ ہائی کورٹ منتقل کیا جائے۔ افراز کی بیٹی جمیلہ نے بتایا کہ گزشتہ 7دنوں کے دوران ریاست  بھر کے سینئر لیڈران ملاقات کرنے کیلئے آرہے ہیں اور ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں اور کچھ لوگ مالی مدد بھی کررہے ہیں مگر ہماری اولین ترجیح اپنےپاپا کے قاتلوں کو سزا دلانا ہے ۔ اور یہ راجستھان میں ممکن نہیں ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ شمبھولا ل کا مقدمہ کلکتہ منتقل کیا جائے۔

مالدہ ضلع کے کالیا چک بلاک میں واقع سید پور گاؤں جو مسلم اکثریتی گاؤں ہے یہاں کے باشندے زیادہ تر راجستھان اور ملک کی دیگر ریاستوں میں راج مستری اورتعمیراتی کاموں میں مزدوری کرتے ہیں۔  افرازالاسلام 14سال کی عمر سے ہی راجستھان راجسمند ضلع کے مختلف علاقوں میں راج مستری کا کام کررہے تھے۔ گزشتہ 30سالوں میں افراز نے اپنے گاؤں اور آس پاس کے لڑکوں کو بڑی تعداد میں راجسمند ضلع لے کر گئے اور انہیں راج مستری کا کام سیکھایا یا پھر وہ لڑکے مزدوری کرتے تھے۔ اس وقت افراز کے ساتھ دو داماد، بھانجہ اور چھوٹا بھائی ساتھ میں رہتے تھے۔ جس دن یہ واقعہ پیش آیا اس دن بھی افراز نے ان تمام لوگوں کے ساتھ ناشتہ کیا تھا ۔ان کے بھانجے جہانگیر نے بتایا کہ ماموں نے ناشتہ کرکے بتایا کہ پانڈیا جارہا ہے وہاں ایک سائٹ ہے اس پر جلد کام شروع ہونے والا ہے۔

افراز الاسلام کے قاتل شمبھولال کے خلاف مقدمہ کو کلکتہ منتقل کیا جائے: بیٹی کا مطالبہ

افراز کی بیٹی جمیلہ نے بتایا کہ گزشتہ 7دنوں کے دوران ریاست بھر کے سینئر لیڈران ملاقات کرنے کیلئے آرہے ہیں اور ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں اور کچھ لوگ مالی مدد بھی کررہے ہیں مگر ہماری اولین ترجیح اپنےپاپا کے قاتلوں کو سزا دلانا ہے۔ تصویر، ای ٹی وی۔

جہانگیر نے بتایا کہ دن کے گیارہ بجے بھی انہوں نے اپنے داماد مشرف حسین کو فون کرکے بتایا کہ وہ واپس آکر بینک جائیں گے۔مگر دن کے ایک بجے فون آیا کہ ان کی موٹر سائیکل کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ہم سب اسپتال کی طرف دوڑے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ ایکسیڈنٹ نہیں بلکہ ان کی لاش کو جلادیا گیاہے اور پھر ویڈیو وائرل ہونے لگا۔ افرازالاسلام کے داماد مشرف حسین جو راجستھان سے افراز کی لاش کی ساتھ گھر آئے ہیں نے بتایا کہ افراز کے دوسرے داماد اب بھی راجستھان میں ہی ہیں ۔کیوں کہ کچھ قانونی کارروائیاں باقی ہیں ۔اس کیلئے انہیں وہاں رہنے کو کہا گیا ہے ۔ تاہم قانونی کارروائیوں کا حصہ بننے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس عدالتی کارروائی کو کلکتہ منتقل کیا جائے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی ہمارے اس مطالبے کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ ہماری ہر ممکن مدد کریں گی۔

مالدہ ضلع کے کالیا چک بلاک میں واقع سید پور گاؤں جو مسلم اکثریتی گاؤں ہے یہاں کے باشندے زیادہ تر راجستھان اور ملک کی دیگر ریاستوں میں راج مستری اورتعمیراتی کاموں میں مزدوری کرتے ہیں۔ تصویر، ای ٹی وی۔ مالدہ ضلع کے کالیا چک بلاک میں واقع سید پور گاؤں جو مسلم اکثریتی گاؤں ہے یہاں کے باشندے زیادہ تر راجستھان اور ملک کی دیگر ریاستوں میں راج مستری اورتعمیراتی کاموں میں مزدوری کرتے ہیں۔ تصویر، ای ٹی وی۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اس واقعہ کے منظرعام پر آنے کے فوری بعد ہی افراز کے اہل خانہ کو تین لاکھ روپے معاوضہ دینے اور گھر کے ایک قابل فرد کو نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی وزراء اور حکمراں جماعت کے ممبران پارلیمنٹ کے ایک وفد نے سید پور جا کر افراز کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی اور تین لاکھ روپے کا چیک دیا ہے اور گھر والوں نے بتایا کہ افراز کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں روپیہ آگیا ہے ۔ تاہم نوکری کے سلسلے کو قانونی کارروائی کیلئے بی ڈی او کو ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔چوں کہ افراز کی تین بیٹیاں ہیں ، پہلی بیٹی 8ویں جماعت تک ہی تعلیم حاصل کی ہے۔ دوسری بیٹی دسویں جماعت تک اور تیسری بیٹی جو شادی شدہ نہیں ہے اس وقت 9ویں جماعت میں ہی تعلیم حاصل کررہی ہیں ۔ یہی بڑا مسئلہ ہے کہ نوکری کس بیٹی کو دلائی جائے۔افراز کے بڑے بھائی نے بتایا کہ گھر والے جلد ہی اس پر فیصلہ کرلیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز