مغربی بنگال کی عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے طلباء اپنے مستقبل کے تئیں فکر مند

Mar 08, 2017 04:39 PM IST | Updated on: Mar 08, 2017 04:40 PM IST

کولکاتہ : 29مئی 2015کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جب ’’جشن اقبال‘‘ کی تقریب میں اقلیتوں کی ترقی کیلئے قائم’’ عالیہ یونیورسٹی‘‘ میں پہلے اقبال چیئر اور بعد میں اردو کا شعبہ نہیں ہونے کا علم ہونے پر ایک مہینے میں عالیہ میں شعبے اردو قائم کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت نذرل منچ میں موجود ہزاروں اردو شائقین نے وزیر اعلیٰ کے اس اعلان کا بہت ہی گرم جوشی سے خیرمقدم کیا تھا ، مگر عالیہ یونیورسٹی میں شعبہ اردو قائم ہونے کے دو سال بعد بھی پورا شعبہ پارٹ ٹائم و گیسٹ ٹیچروں پر ہی منحصر ہے اس کی وجہ سے طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کا مستقبل بھی داؤ پر ہے۔

یہ صورت حا ل صرف عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی نہیں ہے، بلکہ ایک زمانے میں ہندوستان میں مشہور کلکتہ یونیورسٹی کا’’شعبہ اردو ‘‘ بھی بحرانی دور سے گزررہا ہے ۔گزشتہ کئی سالوں سے شعبہ اردو میں صرف ایک مستقبل ٹیچر ہیں بقیہ پارٹ ٹائم اورگیسٹ ٹیچروں سے کام چلایا جارہا ہے ۔اس کی وجہ سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے امیدواروں مایوسی کا سامنا ہے ۔کیوں کہ اس وقت کلکتہ یونیورسٹی صرف ایک مستقبل اسسٹنٹ پروفیسر ہیں جو ایک وقت میں 6یا 7سے زاید طلباء کو پی ایچ ڈی نہیں کراسکتے ہیں ۔

مغربی بنگال کی عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے طلباء اپنے مستقبل کے تئیں فکر مند

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے اعلان کے چند مہینے میں ہی اقلیتی امور میں وزیر اعلیٰ کے مشیر کار و اقلیتی و مالیاتی کارپوریشن کے چیرمین سلطا ن احمد کی خصوصی دلچسپی سے عالیہ یونیورسٹی میں اردو کا شعبہ قائم ہوگیا اور اردو اکیڈمی کے تعاون سے بھی داخلہ کا عمل مکمل کیا گیا ۔

شعبہ اردو کیلئے اساتذہ کی 11عہدیں تخلیق کی گئیں ،چوں کہ وزیر اعلیٰ نے فوری اردو کا شعبہ قائم کرنے کی ہدایت دی تھی اس لیے عارضی طور پرکلکتہ شہر کے مختلف کالجوں کے اساتذہ و کچھ ریٹائٹرڈ ٹیچر اور کچھ پارٹ ٹائم ٹیچروں کی مدد سے شعبہ اردو میں گریجویشن و پوسٹ گریجویشن کی تعلیم شروع کردی گئی ۔مگر سوال یہ ہے کیا دو سال کا عرصہ مستقل فیکلٹی کی بحالی کیلئے کافی نہیں ہوتا ہے؟ جب کہ اس درمیان دیگر شعبوں کیلئے بڑی تعداد میں اساتذہ کی بحالی کا عمل انجام دیا گیا ؟جب فیکلٹی ٹیچر کی بحالی نہیں ہوئی تو ’’اقبال چیئر ‘‘ کی فکر کون کرے گا؟ جب کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس کا اعلان علامہ اقبال مرحوم کے پسرزادہ ولیداقبال کی موجودگی میں کیا تھا ۔

عالیہ یونیورسٹی کے اردو شعبہ میں پوسٹ گریجوٹ (ایم اے)میں زیر تعلیم کئی طلباء نے بتایا کہ ان دو سالوں میں نہ کتابیں فراہم کی گئیں ہیں اور نہ ہی پہلے سال کا ریزلٹ عام کیا گیا جب کہ تین مہینے بعد دوسرے سال کا امتحان ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر چوں کہ مستقل اپنے کالج میں صدر شعبہ اردو، ہاسٹل کے نگراں اور پرنسپل کی غیر موجودگی میں پرنسپلی کے فرائض انجام دیتے ہیں اس لیے انہیں عالیہ یونیورسٹی آنے کی فرصت بہت ہی کم ملتی ہے ۔وہ اعلانیہ طور پر ہفتے میں ایک مرتبہ ہی سوموار کو یونیورسٹی آتے ہیں ۔مگر بسااوقات یہ سوموار مہینے میں ایک یا دو مرتبہ ہی آتا ہے ۔

طلباء نے بتایا کہ اس کی وجہ سے انہیں کوئی معلومات فراہم کرنے کا والا نہیں ہوتا ہے۔کئی سمسٹر ایسے ہوتے ہیں جس کی پڑھائی نہیں ہوتی ہے اور اس کا امتحان لے لیا جاتا ہے۔الیکٹیو سبجیکٹ کی کلاسیں کہاں ہوں گی اور کون لے گا یہ بھی بتانے والا نہیں ہے؟ چنانچہ عربک جو ایک لازمی سبجیکٹ ہے کی کلاس نہیں ہونے کی وجہ سے تمام طلباء کو فیل کردیا گیا ہے ۔

اردو کے ایک پروفیسر نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط بتایا کہ کلکتہ یونیورسٹی اور اب عالیہ یونیورسٹی اردو کی بدحالی کیلئے حکومت اور اس کے ذمہ داروں کو قصوروار ٹھہرانا انصاف نہیں ہے بلکہ اس کیلئے کسی حد تک ان یونیورسٹیوں میں اردو شعبے پر قابض پروفیسر حضرات اور یونیورسٹی انتظامیہ ذمہ دار ہے۔سیاست دانوں کی مداخلت کی ایک حد مقرر ہے۔ریٹائر ڈ اور کئی کئی جگہوں پر ایک ساتھ پڑھانے والے نئی نسل کو موقع دینے کے حق میں نہیں ہے۔

کلکتہ یونیورسٹی میں 2011سے اردو شعبہ کیلئے کئی مرتبہ اشتہارات آئے مگر آخیر وقت میں انٹرویو رد کرادیا گیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ اس کے پیچھے کون ہیں اس کاپتہ لگانے کی ضرورت ہے؟ عالیہ یونیورسٹی کا یہی بھی صورت حال ۔اشتہارات دیے جاچکے ہیں ،درخواستیں بھی بڑی تعداد میں جمع ہیں مگر انٹرویونہیں ہونے دیاجارہا ہے؟۔

یواین آئی ۔نور۔ شا پ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز