مرکزی اور صوبائی حکومت سے پندرہ نکاتی کمیٹی کو کارآمد بنانے کا مطالبہ

May 22, 2017 05:36 PM IST | Updated on: May 22, 2017 05:36 PM IST

پٹنہ۔ بہار میں پندرہ نکاتی پروگرام کمیٹی کے کاموں پر سوال کھڑا کیا جا رہا ہے۔ انجمن ترقی اردو بہار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پندرہ نکاتی کمیٹی کو مضبوط کیا جائے تاکہ صوبہ میں جاری  حکومت کی اسکیموں میں اقلیتوں کی پندرہ فیصد کی حصہ داری یقینی بنائی جا سکے۔   وزیراعظم کے نئے پندرہ نکاتی پروگرام کمیٹی کے مطابق حکومت کے سبھی منصوبوں میں اقلیتوں کو پندرہ فیصد کی حصہ داری یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے لیکن بہار میں اس پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ دراصل اس کمیٹی کا کام ریاست کے چیف سکریٹری کے حوالہ کیا گیا ہے۔  چیف سکریٹری کو اتنا وقت نہیں ہوتا ہے کہ وہ پندرہ نکاتی کمیٹی پر نظر ثانی کر سکیں۔ انجمن نے اس مسئلہ پر مرکزی اور صوبائی حکومت کو غور کرنے کی اپیل کی ہے۔

دانشوروں کے مطابق پندرہ نکاتی کمیٹی ضلع میں کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ حکومت نے چیف سکریٹری کو اس کا ذمہ دار بنا کر اپنی ذمہ داری پوری کرلی ہے۔ نتیجہ کے طور پر اقلیتوں کو حکومت کے منصوبوں میں کتنا حصہ مل پاتا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں چلتا ہے۔ پندرہ نکاتی پروگرام کمیٹی کے سابق چیئرمین نے بھی حکومت سے مانگ کی ہے کہ سابقہ طریقہ پر پندرہ نکاتی کمیٹی کو تشکیل دی جائے۔ انجمن ترقی اردو بہار نے اس معاملے پر صوبہ میں تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ انجمن کے سکریٹری نے ای ٹی وی کے ذریعہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ سے سوال کیا ہے کہ اقلیتوں کے لیے کام کرنے کا وعدہ کرنے والے لوگ آخر پندرہ نکاتی کمیٹی کے معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔

مرکزی اور صوبائی حکومت سے پندرہ نکاتی کمیٹی کو کارآمد بنانے کا مطالبہ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز