مغربی بنگال : جادو یونیورسٹی میں اینٹی رومیو اسکواڈکی تعیناتی ، طلبہ و سابق طلبہ کا شدید برہمی کا اظہار

Apr 08, 2017 09:29 PM IST | Updated on: Apr 08, 2017 09:29 PM IST

کلکتہ: اترپردیش میں انٹی رومیو اسکواڈ کی گرچہ سیاسی سطح پر پذیرائی کی جارہی ہے اور میڈیا بھی رطب اللسان ہے مگر ملک کی مشہور ترین جادو پور یونیورسٹی کے کیمپس میں ’’اخلاقی پولس‘‘ پر طلباء برداری میں سخت ناراضگی ہے اور اس کو جمہوری حقوق پر حملے اور یونیورسٹی میں آزادی، تنوع اور فکر و عمل پر حملہ قرار دیا جارہا ہے ۔ طلباء کے شدید احتجاج اور ملک کی باوقار یونیورسٹی کے سابق طلباء کی مذمتی بیانات کے بعدوائس چانسلر سورنجن داس نے 12اپریل کو طلباء سے اس ایشو پر بات کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے ۔

کیمپس میں ’’اخلاقی پولس ‘‘ کی تعیناتی پر طلباو سابق طلباء نے سخت مذمت کرتے ہوئے ’’جمہوری حقوق ‘‘ پر قرار دیا تھا ۔جادو پور آرٹ فیکلٹی اسٹوڈنٹس یونین کے چیر پرسن سوما شری چودھری نے کہا کہ ہم نے پہلی مرتبہ یونیورسٹی کے کیمپس میں ’’اخلاقی پولس ‘‘ کی تعیناتی دیکھی ہے ۔کوئی بھی ہمارے ڈیموکریسی آزادی کو چھیننے کی کوشش نہیں کرسکتا ہے ۔اس طرح کی دخل اندازی روکنے کیلئے ہم ہر ممکن کوشش کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ انٹی رومیو اسکواڈ جادو پوریونیورسٹی کے اقدار کے منافی ہے ۔

مغربی بنگال : جادو یونیورسٹی میں اینٹی رومیو اسکواڈکی تعیناتی ، طلبہ و سابق طلبہ کا شدید برہمی کا اظہار

شبنم سوریتا جو جرمنی یونیورسٹی اف بونن میں ایشن اسٹڈیز میں ریسرچ اسکالر ہیں بھی جادو پوریونیورسٹی میں ’’اخلاقی پولس‘‘ کی تعیناتی پر برہم ہیں ۔شبنم کہتی ہیں کہ انہوں نے بھی جادوپور میں تعلیم حاصل کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹی میں تعلیمی و کلچر دونوں سطح پر آزادی تھی ۔تنوع و اختلافات کی پذیرائی کی گئی ہے ۔انٹی رومیو اسکواڈ ذاتی اور سماجی آزادی پر حملہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔راج شری مددے جو جادو اسکول آف موبائل کمپوئڈنگ اینڈ کمیونیکشن میں ریسرچ اسکالر ہیں نے کہا کہ ہم کبھی بھی اس کا تصور نہیں کرسکتے تھے ۔ہر ایک یونیورسٹی کا اپنا کلچر ہوتا ہے ۔اس کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول ختم ہوجائے گا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز