حزب المجاہدین میں شامل ہوا بیٹا، ماں بولی، اسے مار کر جانوروں کے سامنے ڈال دو لاش

گوہاٹی۔ آسام کے ایک گمشدہ نوجوان شخص کے جموں کشمیر میں دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہونے کا شک ہے۔

Apr 11, 2018 10:17 AM IST | Updated on: Apr 11, 2018 10:57 AM IST

گوہاٹی۔ آسام کے ایک گمشدہ نوجوان شخص کے جموں کشمیر میں دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہونے کا شک ہے۔ ایک خودکار رائفل لئے اسکی تصویر سامنے آنے کے بعد اس کی ماں نے کہا کہ حکومت کو اسے مار دینا چاہئے۔

سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہونے کے بعد آسام پولیس نے اس معاملہ کی تفتیش شروع کر دی ہےاور یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا قمرالزماں نام کا شخص دہشت گرد تنظیم میں شامل ہو گیا ہے۔

حزب المجاہدین میں شامل ہوا بیٹا، ماں بولی، اسے مار کر جانوروں کے سامنے ڈال دو لاش

قمر کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

تصویر میں نوگاوں ضلع کے جمونامکھ کا رہنے والا قمر خودکار رائفل لئے ہوئے ہے۔ تصویر کے کیپشن سے لگتا ہے کہ وہ حزب المجاہدین کا رکن ہے ۔ کیپشن میں لکھا ہے کہ، تنظیم :حزب المجاہدین ، نام : قمرالزماں، ولدیت : ابراہیم زماں، رہائشی: آسام، ہندوستان، کوڈ: ڈاکٹر ہوریہ ، تعلیم: ایم اے انگریزی۔

پولیس ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ آسام پولیس جموں کشمیر کی پولیس کے ساتھ رابطہ میں ہے۔ خصوصی برانچ کے ڈی جی پی  پلو بھٹا چاریہ نے کہا کہ اسکی تصدیق کرنا مشکل ہے کہ کیا قمر اس دہشت گرد تنظیم میں شامل ہو گیا ہے۔ تاہم ریاستی پولیس نے تفصیلی تفتیش کے لئے جموں کشمیر کی پولیس کے ساتھ معاملہ کو اٹھایا ہے۔

وہیں قمرالزماں کی ماں نے تصویر میں نظر آ  رہے نوجوان کی شناخت اپنے گمشدہ بیٹے کے طور پر کی ہے اور کہا ہےکہ حکومت کو اسے باغی ہونے پر مار دینا چاہئے۔

انہوں نے اپنے گھر میں صحافیوں سے کہا کہ ’’ ہاں میرا بیٹا قمر ہے، اگر وہ دہشت گرد تنظیم میں شامل ہو گیا ہے تو حکومت کو اسے مار دینا چاہئے ۔ وہ ملک کا دشمن ہے اس کی لاش جانوروں کے سامنے ڈال دینی چاہئے اور مجھے ایسا بیٹا نہیں چاہئے۔ ایسے شخص کو زندہ رہنے کا حق نہیں ہے ‘‘۔

قمر کی والدہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’’قمر یہ کہتے ہوئے گھر سے گیا تھا کہ وہ کشمیر میں کاروبار شروع کرنے کے لئے جا رہا ہےاور گزشتہ 10 ماہ سے اس نے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز