محکمہ خزانہ کے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹ سروس کیلئے ہوئی تقرری میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کی شرح محض 5.90 فیصد

Jul 21, 2017 08:41 AM IST | Updated on: Jul 21, 2017 08:41 AM IST

کلکتہ ۔ ایک ایسے وقت میں جب مغربی بنگال میں لااینڈ آرڈر کے تمام مسائل کیلئے ممتا بنرجی کی ’’مسلم نواز پالیسی ‘‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ممتا بنرجی ووٹ بینک کی سیاست کیلئے صرف 28فیصد مسلمانوں پر اپنی پوری توجہ مبذول کررکھی ہے اور ہندؤں کو نظرانداز کردیا ہے ۔مگر مغربی بنگال پبلک سروس کمیشن کے تحت محکمہ خزانہ آؤڈٹ اینڈ اکاؤنٹ سروس میں کل 120سیٹوں کیلئے ہوئے امتحان میں محض 6مسلم امیدواروں کی کامیابی بتاتی ہے۔ ممتا بنرجی کی’’ مسلم نواز پالیسی‘‘ صرف ڈھونڈورا اور پروپیگنڈہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ 2016میں مغربی بنگال پبلک سروس کمیشن نے محکمہ خزانہ کے آؤڈٹ اینڈ اکاؤنٹ سروس میں بحالی کیلئے 120سیٹوں پر بحالی کیلئے اشتہار جاری کیا تھا جس میں 66سیٹیں جنرل تھیں، ایس سی 26ایس ٹی 7، او بی سی اے میں 11، اوبی سی بی میں 08اور جسمانی معذروں کیلئے 02سیٹیں مختص کیا گیا تھا۔  6جولائی 2017میں جاری نتائج میں کل108امیدواروں کی کامیابی قرار دیا تھا۔جس میں 6مسلم امیدوار شامل ہیں۔ یعنی مسلم امیدواروں کی کامیابی کی شرح 5.90فیصد رہی ۔جب کہ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی کل آبادی 30فیصد کے قریب ہے ۔

سماجی کارکن اور آل انڈیا مائنا ریٹی یوتھ فیڈریشن کے صدر قمرالزماں نے یو این آئی کو بتایا کہ پبلک سروس کمیشن نے مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کی جان بوجھ کر کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بحالی کیلئے جو اشتہار جاری کیا گیا تھا اس میں اوبی سی اے کیلئے کل 11سیٹیں مختص کیا گیا ہے ۔مگر جو نتائج سامنے آئے ہیں اس میں اوبی سی اے کی 11سیٹیں پر نہیں کی گئی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ چوں کہ اوبی سی اے 90فیصد مسلم برادری شامل ہیں ۔اس لیے اوبی سی اے کی کل 11سیٹوں نہیں بھرا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تحریری امتحان میں اوبی سی اے کوٹے میں کل 41امیدوار کامیاب ہوئے تھے اور انہیں انٹرویو کیلئے طلب کیا گیا تھا مگر نتائج میں ان سب کو نظر انداز کردیا گیا۔ قمرالزماں نے کہا کہ نتیجہ میں جن دو مسلم امیدوار فہیم اور شاہنواز اسلام کو اوبی سی اے میں دکھایا گیا ہے در اصل ان دونوں میں جنرل کوٹے سے پاس ہیں مگر خانہ پری کرنے کیلئے انہیں اوبی سی اے میں دیکھا گیا ہے۔

محکمہ خزانہ کے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹ سروس کیلئے ہوئی تقرری میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کی شرح محض 5.90 فیصد

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی: فائل فوٹو

قمرالزماں نے سوال کیا کہ جب ایس سی ، ایس ٹی اور اوبی سی بی کے تمام کوٹے کو پر کیا گیا تو پھر آخر اوبی سی اے اور معذور کیلئے مختص سیٹیوں کیوں نہیں پر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ چوں کہ اگر اوبی سی اے کا کوٹہ پر کیا جاتو مسلم امیدواروں کی کامیابی کی شرح 15فیصد تک پہنچ سکتی تھی اس لیے جان بو جھ کر پبلک سروس کمیشن نے اس کوٹے کو خالی چھوڑدیا تاکہ مسلمانوں کو نوکری نہ ملیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے مغربی بنگال اقلیتی کمیشن سے پبلک سروس کمیشن کی شکایت کی ہے اور کمیشن کے چیرمین انتاج علی شاہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں گے اگر یہ مسئلہ جلد حل نہیں کیا جاتا ہے پبلک سروس کمیشن کے دفتر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ 2011میں ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ تصور عام ہے کہ ان کے دور اقتدار میں سرکاری ملازمتیں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔مگر2015میں کلکتہ کے ایک ریسرچ اسکالر اور سماجی کارکن شبیر احمد کے ذریعہ دائر آرٹی آئی کے جوا ب میں جو حقائق سامنے آئے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممتا بنرجی کے دور اقتدار میں بھی سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے ۔

آرٹی آئی کے مطابق 2015تک کلکتہ پولس میں مسلمانوں کی نمائندگی کی شرح میں صرف 03فیصد کااضافہ ہوہا ہے ۔ان 8سالوں میں ممتا بنرجی کا پانچ سالہ دور اقتدار بھی شامل ہے۔جب کلکتہ میونسپل کارپوریشن جہاں گزشتہ 7سالوں سے ترنمول کانگریس کی قیادت والی بور ڈ ہے وہاں مسلمانوں کی نمائندگی کی شرح میں 0.32 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔30 مارچ 2015تک کلکتہ پولس کے اہلکاروں کی کل تعداد 27,388اتھی۔ جس میں مسلم ملازموں کی تعداد محض 2,585ہے ۔ یعنی کلکتہ پولس میں مسلمانوں کی نمائندگی کی شرح 9.43فیصد ہے ۔جب کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد 2007میں شبیر احمد نے ہی آرٹی آئی داخل کرکے کلکتہ پولس میں مسلمانوں کی نمائندگی پر جواب طلب کیا تھا تو اس وقت کہا گیا تھا کہ کلکتہ پولس میں مسلمانوں کی نمائندگی کی شرح 9.13فیصد ہے ۔اس وقت کلکتہ پولس میں کل 24,840افراد ملازمت پر تھے جس میں مسلمانوں کی تعداد 2,267تھی ۔یعنی ممتا بنرجی کے دور اقتدار میں کلکتہ پولس میں محض 318مسلم نوجوانوں کو ملازمت ملی۔ یہی صورت حال کلکتہ میونسپل کارپوریشن کی بھی ہے-2007میں جب بایاں محاذ کی حکومت تھی اس وقت کارپوریشن میں مسلمانوں کی نمائندگی کی شرح 4.47فیصد تھی۔2010میں کلکتہ میونسپل کارپوریشن پر ترنمول کانگریس کا قبضہ ہے ۔اس کے بعد کارپوریشن میں مسلم ملازمین کی شرح میں 4.79تک پہنچ گئی۔یعنی ممتا بنرجی کی پارٹی والے بورڈ میں مسلم کی نمائندگی کی شرح میں محض 0.31فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ 2015میں کلکتہ میونسپل کارپوریشن میں ملازمین کی کل تعداد 27,125تھی اس وقت مسلم ملازمین کی تعداد1,301ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز