مولانا برکتی کا عہدہ امامت چھوڑنے سے انکار ، کہا : مسجد کمیٹی غیر قانونی ، برطرف کرنے کا کوئی حق نہیں

May 17, 2017 11:28 PM IST | Updated on: May 17, 2017 11:28 PM IST

کلکتہ: وقف اسٹیٹ آف پرنس غلام محمد کے ذریعہ عہدہ امامت سے برطرف کیے جانے کو غیر قانونی بتاتے ہوئے مولانا برکتی نے عہدہ امامت کو چھوڑنے سے انکار کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو مجھے برطرف کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ برطرفی کے باوجود امامت کا فریضہ انجام دے رہے مولانا نور الرحمن برکتی نے مسجد کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ٹرسٹیوں کو مجھے برطرف کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔چوں کہ کمیٹی کے خلاف عدالت میں معاملہ چل رہا ہے اور اس کمیٹی کی مدت مکمل ہوچکی ہے ۔عدالت نے دوسری مدت کیلئے کمیٹی کی تشکیل نہیں کی ہے۔اس لیے انہیں اس طرح کے اقدامات کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔

مولانا برکتی نے کہا کہ میں تین دہائیوں سے ٹیپو سلطان مسجد کے عہدہ امامت پر فائزہوں ۔اس مدت میں ٹیپو سلطان مسجد کے وقار ملک بھر میں بلند کیا۔ٹیپو سلطان مسجد کا پلیٹ فارم ہمیشہ مسلمانوں کے ملی مسائل کے حل کھولا گیاجب بھی حکومت وقت نے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی ہم نے بلا توقف حکومت کے خلاف آواز بلند کیا ۔اور مسلمانوں کے مسائل کے ساتھ کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ جب لاؤڈ اسپیکر پر آذان کا مسئلہ پیدا ہوا یا پھر انگریزی روز نامہ اسٹیس مین ہرزہ سرائی ہر موقع پر میں پیش پیش تھا ۔گستاخ رسول تسلیمہ نسرین کے خلاف کس نے آواز بلند اور کلکتہ سے بھگانے میں کس نے رول اداکیا ؟۔

مولانا برکتی کا عہدہ امامت چھوڑنے سے انکار ، کہا : مسجد کمیٹی غیر قانونی ، برطرف کرنے کا کوئی حق نہیں

file photo

مولانا برکتی نے کہا کہ ''وقف اسٹیٹ آف پرنس غلام محمد ‘‘کے ممبران چوں کہ وقف جائداد کو خرد برد کررہے تھے ۔مسجد کی مرمت کے نام پر مسجد کے قیمتی سامانوں کی چوریا ہورہی تھیں ۔ ''وقف اسٹیٹ آف پرنس غلام محمد ‘‘کے قیمتی جائداد کو بہت ہی کم قیمتوں پر کرایہ پر دیا جارہا تھا چوں کہ میں اس کے خلاف ہوں اور انہیں ٹوکتا رہا ہوں اس لیے وہ میرے خلاف سیاست کرنے لگے ہیں۔اب وہ سیاسی لوگوں کے اشارہ پر میری برطرفی کا اعلان پریس کانفرنس میں کیا گیا؟

مولانا نے سوال کیا کہ کیاکبھی کسی امام کی برطرفی کیلئے پریس کانفرنس کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ میری نہیں بلکہ منصب امامت کی توہین اور یہ لوگ امام کٹھ پتلی بناکر رکھنا چاہتے ہیں ۔مولانا نے کہا کہ مجھ ملک مخالف ہونے کا بیہودہ الزام عاید کیا جارہاہے وہ سراسر غلط ہے ۔میں ملک کے قانون اور آئین پر یقین رکھتا ہوں اور آئینی عہدہ پر فائز افراد کا دل سے عزت کرتا ہوں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز