پندرہ نکاتی کمیٹی کو لیکر اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹی کے مسلم لیڈروں نے ایک دوسرے پر لگایا الزام

Feb 08, 2017 07:18 PM IST | Updated on: Feb 08, 2017 07:18 PM IST

پٹنہ۔ بہار میں پندرہ نکاتی پروگرام کمیٹی کے وجود پرہی سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ کافی تام جھام کے ساتھ شروع کیا گیا نیا پندرہ نکاتی کمیٹی  پروگرام کےعملی نفاذ پر جہاں سیاست تیز ہے، وہیں حکومت پر خود برسر اقتدار پارٹی کے مسلم لیڈروں نے ٹھگنے کا الزام لگایا ہے۔  جانکاروں کے مطابق سبھی سیاسی پارٹیوں کی دلچسپی مسلمانوں کے ووٹوں سے تو ہے لیکن اقلیتی سماج کی فلاح کے سلسلے میں قائم پندرہ نکاتی کمیٹی کے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے اسے سیاسی بھنور میں مزید الجھا دیا گیا ہے، حالت یہ ہیکہ پندرہ نکاتی کمیٹی ہے بھی یا نہیں اب اس معاملے میں کسی کی دلچسپی نہیں ہے۔

پندرہ نکاتی کمیٹی کو لیکر اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹی کے مسلم لیڈروں نے ایک دوسرے پر لگایا الزام

بہار میں پندرہ نکاتی کمیٹی کا اب کہیں بورڈ تک نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے جب سے پندرہ نکاتی کمیٹی کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری چیف سکریٹری کے حوالہ کی ، تب سے ہی یہ کمیٹی کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی اس سلسلے میں کسی طرح کی کوئی پہل نہیں کی گئی ہے۔ کانگریس لیڈر اعظمی باری نے اس معاملے پر حکومت کو کٹگھرے میں کھڑا کیا ہے۔ادھر جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں کا کہنا ہے کہ پندرہ نکاتی کمیٹی کا کام پہلے بھی کچھ نہیں رہا ہے، تاہم انہوں نے اس معاملے میں مرکزی حکومت پر سوال کھڑا کیا ہے۔ جبکہ بی جے پی کے ترجمان اظفر شمسی کی مانیں تو پندرہ نکاتی کمیٹی ایک اہم شعبہ ہے،  جس سے اقلیتی اسکیموں کے نفاذ کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ اظفر شمسی نے صوبائی حکومت کو اس مسئلہ پر غور  کرنے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز