بہار بورڈ: 8 ویں کلاس کے اساتذہ نے 12 ویں کی کاپی جانچ کی ، محکمہ تعلیم پھر سرخیوں میں 

May 31, 2017 08:45 PM IST | Updated on: May 31, 2017 08:45 PM IST

پٹنہ (آلوک کمار ) گزشتہ سال دو خبروں نے بہار کے تعلیمی نظام کی پول کھول کر رکھ دی تھی۔ یہ شاید آپ ذہن میں بھی ہو، پہلی وہ تصویر جس میں چار منزلہ عمارت پر اسپائیڈر مین کی طرح چڑھ کر نقل کرائی جا رہی تھی تو دوسری خبر ٹاپر گھوٹالے کی تھی۔ اس کے بعد سمجھا ہی جا رہا تھا کہ اس مرتبہ سختی ہوگی اور نتیجہ پر بھی اس کا اثر پڑے گا، مگر دو تہائی بچے فیل ہو جائیں گے، اس کا اندیشہ نہیں تھا۔

انٹرمیڈیٹ کے امتحان کے نتائج کے بعد چاروں طرف بے اطمینانی کی صدائیں بلند کی جانے لگی ہیں ۔ یہ نتائج کسی کے گلے نہیں اتر پا رہا ہے۔ امتحان، سرپرست، تعلیمی دنیا کے ماہرین اور لیڈران سبھی نظام کو کوس رہ ہیں۔یہی نہیں اس کا اثر پٹنہ کی سڑکوں پر بھی دیکھنے کو ملا۔ نتائج کی مخالفت میں طلبہ سڑک پر اترے تو حکومت نے ان پر لاٹھیاں بھی برسادیں ۔ اس سے پہلے 1997 میں محض 14 فیصد امیدوار پاس ہوئے تھے۔ اس کے بعد کا یہ بدترین رزلٹ ہے۔

بہار بورڈ: 8 ویں کلاس کے اساتذہ نے 12 ویں کی کاپی جانچ کی ، محکمہ تعلیم پھر سرخیوں میں 

photo : pti

ٹاپر خوشبو کا درد

نتائج سے بہار کے طلبہ کس طرح سے غیر مطمئن ہیں ، اس کی ایک جھلک سال رواں ٹاپر سے بات کرنے کے دوران دیکھنے کو ملی ۔86 فیصد نمبرات کے ساتھ بہار میں سائنس ٹاپر بننے والی خوشبو کماری بھی اپنے مارکس کو لے کر کافی ناراض نظر آئیں۔ خوشبو کو جب ہم نے ان کی کامیابی پر مبارکباد دی تو انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ایسی کامیابی اور ٹاپر بننے کا کیا فائدہ جب دہلی یونیورسٹی کے کسی اچھے کالج میں مجھے داخلہ ہی نہیں مل سکتا ۔

خوشبو کے علاوہ وہ 35 فیصد طلبہ طالبات بھی اپنے مستقبل کے تئیں فکرمندہیں ، جو پاس ہو گئے ہیں ، لیکن اچھے اداروں میں داخلے کو لے کر شبہ میں ہیں۔ بہار میں انٹر کے نتائج پر نظر ڈالیں تو بدترین نتائج سائنس کے ہیں ، جس محض 30 فیصد طلبہ ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ آرٹس میں 37 فیصد جبکہ کامرس میں 73.76 فیصد طالب علم کامیاب ہوئے ہیں۔

وہیں بہار کے وزیر تعلیم اشوک چودھری نے نتائج کو تاریخی قراردیا ہے اور نتائج کے لئے بہار بورڈ کو مبارک باد بھی دی ہے۔ اس مبارک کے بعد ان پر مسلسل طنز ہو رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر وہ ٹرول ہورہے ہیں ۔

بہار بورڈ کا موقف

گزشتہ سال انٹر کے امتحان میں جہاں 62.19 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے تھے، وہیں 2015 میں یہ تعداد 87.45 تھی۔ انٹر کے خراب نتائج پر جب ای ٹی وی نے بہار بورڈ کے چیئرمین آنند کشور سے بات کی ، تو انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ہم نے کافی سختی کے ساتھ امتحان کا انعقاد کرایا تھا۔ امتحان کی مکمل کی کارروائی سخت اور شفاف تھی۔ مگر سی بی ایس ای تو یہ پہلے سے کرتا آ رہا ہے، پھر اس کے نتائج پر تو اثر نہیں پڑتا، یہ پوچھے جانے پر کشور نہ چاہتے ہوئے بھی بتاتے ہیں کہ مناسب طریقہ سے تعلیم نہ ہونے کی وجہ ایسے نتائج سامنے آئے ہیں۔

تاہم کچھ سوالات تو پہلے سے اٹھ رہے تھے۔ جب مڈل اسکول کے اساتذہ کو کاپیاں جانچنے کی ذمہ داری دے دی گئی۔ وجہ اس وقت بہار میں 12 ویں کے ٹیچر ہڑتال پر تھے۔ بہارسکینڈری ٹیچریونین کے صدر کیدار پانڈے نے بھی اس معاملہ پر سوال اٹھاتے ہوئے دوبارہ کاپی چیک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ آٹھویں کلاس میں پڑھانے والے ٹیچر 12 ویں کی کاپی ٹھیک سے جانچ نہیں کرسکتے۔

بی جے پی نے بھی اٹھائے سوال

بہار میں انٹر کے بعد میٹرک کے ماڈل آنسر شیٹ میں بھی خامیاں پايي گئی تھیں۔ طبیعیات کے ماڈل آنسرشيٹ میں 8 غلطیاں پائی گئیں تھیں۔ بی جے پی کے لیڈر ونود نارائن جھا نے بھی ماڈل آنسرشيٹ کی غلطیوں پر سوالات کھڑے کئے اور کہا کہ ایسے میں ایک طالب علم بہتر نتائج کی توقع کیسے رکھ سکتا ہے ، لیکن بورڈ نے ان الزامات کو سرے سے مسترد کردیا ہے۔

وزیر اعلی نے وزیر تعلیم کو کیا طلب

فی الحال حکومت بارہویں کے نتائج پر کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پائی ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے وزیر تعلیم اشوک چودھری کو طلب کر کے مکمل معلومات مانگی ہیں ۔

پاس ہوئے طالب علموں کے اعداد و شمار:۔

سال 2012- 90.74 فیصد

سال 2013- 88.04 فیصد

سال 2014 - 76.17 فیصد

سال 2015 - 87.45 فیصد

سال 2016- 62.19 فیصد

سال 2017 - 35.25 فیصد

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز