بہار میں میڈیکل کالج کی پڑھائی درمیان میں چھوڑنے والے طلبہ پر گری گاج

Apr 13, 2017 08:25 AM IST | Updated on: Apr 13, 2017 08:25 AM IST

پٹنہ۔  بہار حکومت نے میڈیکل کالجوں میں پوسٹ گریجویٹ میں داخلہ لینے کے بعد درمیان میں ہی کورس چھوڑنے والے طالب علموں کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے  ایسے طالب علموں سے بانڈ کے ساتھ ہی اسکالرشپ اور اسٹائپن کی رقم یکمشت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ سکریٹریٹ کے پرنسپل سکریٹری برجیش مهروترا نے بتایا کہ وزیر اعلی نتیش کمار کی صدارت میں یہاں منعقدہ کابینہ کی میٹنگ میں اس تجویز کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے سرکاری میڈیکل کالجوں کے پوسٹ گریجویٹ طالب علموں کے دوسرے کورسوں میں داخلہ لینے کے مقصد سے طبی کورس کو درمیان میں ہی چھوڑنے کی صورت میں طالب علموں کو 15 لاکھ روپے کا بانڈ اور اس وقت تک حاصل کی گئي اسکالرشپ اور اسٹائپن کی رقم یکمشت واپس کرنی ہوگی۔

مسٹر مهروترا نے کہا کہ میڈیکل کالجوں کے پوسٹ گریجویٹ طالب علموں کے سلیکشن کے دو تین ماہ بعد ہی کورس درمیان میں چھوڑ دینے سے تقریبا 60 سے 70 فیصد نشستیں خالی ہو جاتی ہیں۔ ساتھ ہی کالجوں کو متعلقہ کورس میں اتنے طالب علم نہیں مل پاتے ہیں۔ اس روایت پر روک لگانے کے مقصد سے حکومت نے ایسے طالب علموں سے بانڈ کے ساتھ ہی اسکالرشپ اور اسٹائپن کی رقم یکمشت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرنسپل سکریٹری نے بتایا کہ اس کے علاوہ میڈیکل کالج سے گریجویٹ کی ڈگری لینے کے بعد ریاست میں تین سال کی لازمی سروس فراہم کرنے کے لئے 25 لاکھ روپے کے بانڈ پر دستخط کرنے کی تجویز کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے تحت اگر گریجویٹ پاس ڈاکٹر تین سال کی لازمی سروس نہیں دیتے ہیں تو انہیں بانڈ کی رقم اور اس تاریخ تک حاصل شدہ تنخواہ کی کل رقم یکمشت واپس کرنی ہوگی۔

بہار میں میڈیکل کالج کی پڑھائی درمیان میں چھوڑنے والے طلبہ پر گری گاج

فائل فوٹو

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز