مرکزی حکومت طلاق ثلاثہ بل واپس لے اور ملک میں خوف کا ماحول ختم کرے : امارت شرعیہ

امارت شرعیہ کی جانب سے منعقد ہ "دین بچاؤ ، دیش بچاؤ" کانفرنس میں مسلم لیڈروں نے مرکز کی مودی حکومت سے تین طلاق بل واپس لینے اور اقلیتوں اور دلتوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے ہونے والی کوششوں کو بند کرنے کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا

Apr 15, 2018 01:23 PM IST | Updated on: Apr 15, 2018 09:26 PM IST

پٹنہ : امارت شرعیہ کی جانب سے منعقد ہ "دین بچاؤ ، دیش بچاؤ" کانفرنس میں مسلم لیڈروں نے مرکز کی مودی حکومت سے تین طلاق بل واپس لینے اور اقلیتوں اور دلتوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے ہونے والی کوششوں کو بند کرنے کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ چند سالوں سے ملک میں سیاسی عزائم کے حصول کے لئے شریعت میں مداخلت کر کے اسلامی ثقافت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے امیر مولانا محمد ولی رحمانی نے پٹنہ کے تاريخی گاندھی میدان میں لاکھوں کی تعداد میں مسلم کمیونٹی کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے سیاسی عزائم کے لئے مذہب اور شریعت سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے اور اسلامی ثقافت اور قرآنی تعلیم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی حفاظت کے نام پر حکومت نے تین طلاق سے متعلق بل لاکر شریعت میں مداخلت کا نیا دروازہ کھول دیا ہے۔

مولانا ولی رحمانی نے مرکزی حکومت سے شریعت میں مداخلت بند کرنے اور خواتین کی حفاظت کے نام پر لائے گئے تین طلاق بل کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنے رویہ میں تبدیلی کرنی چاہئے اور قرآن و حدیث کی حرمت کو پامال کرنے کا کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہجومی تشدد اور چند بے لگام لیڈروں کے اشتعال انگیزبیان کے ذریعے ملک کے مسلمانوں، دلتوں اور کمزور طبقے میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لئے حکومت نفرت اور خوف کے ماحول کو ختم کر کے معاشرے میں مساوات و یکجہتی قائم کرنے کی کوشش کرے اور ملک کے اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں نہ ڈالے۔

امیر شریعت نے کہا کہ ملک کے آئین میں تمام مذاہب کو ماننے کی آزادی دی گئی ہے، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے پورے ملک پر ایک مخصوص نظریے کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے حکومت اور تمام آئینی اداروں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ مکمل طورپر آئین کے اصولوں پر عمل درآمد کریں۔ انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے ملک کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے اور انہیں ملک کے عوام جمہوری طریقے سے سزا دیں گے۔

مولانا رحمانی نے اتر پردیش کے اناؤ اور جموں و کشمیر کے کٹھو عہ میں اجتماعی عصمت دری کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف خواتین کے تحفظ کی بات نہ کرے بلکہ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے سخت سے سخت قدم اٹھائے اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دلائے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ انہوں نے حکومت سے مساجد، مقبروں ، مدارس اور قبرستانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا عبید اللہ خان اعظمی نے بھی شریعت میں دخل اندازی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لئے حکومت کو قدم اٹھانا چاہئے لیکن اس بہانے شریعت میں دخل نہیں دیا جانا چاہئے۔ مسلم طبقہ شریعت میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد نظام انصاف کسی بھی جمہوریت کی بنیاد ہے لیکن آج سرکاری سطح پر عدالتوں کو مسلسل متاثر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، جو افسوسناک ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز