مسلم سملین کے ذریعہ بی جے پی اپنی مسلم مخالف امیج کو ختم کرنے کی کوشش میں

Jan 11, 2018 11:57 AM IST | Updated on: Jan 11, 2018 11:57 AM IST

کلکتہ ۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کے ’’برہمن سملین‘‘ کے بعد اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ممتا بنرجی کے مسلم ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کیلئے آج یعنی جمعرات کو ’’مسلم کنونشن ‘‘ کا انعقاد کررہی ہے ۔ تین طلاق کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والی عشرت جہاں کو بی جے پی میں شامل کیا گیا ہے ۔ بی جے پی اس مسلم کنونشن کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ مسلم ووٹ بینک پر صرف ترنمول کانگریس کا حق نہیں ہے اور بی جے پی مسلم مخالف نہیں ہے ۔ اس کنونشن میں بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش، ترنمول کانگریس کے سابق جنرل سکریٹری اور بی جے پی لیڈر مکل رائے ، بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر عبد الرشید انصاری اور دیگر لیڈران شریک ہوں گے ۔

بی جے پی نے مسلم کنونشن کے انعقاد کا فیصلہ ترنمو ل کانگریس کے ذریعہ برہمن سملین کے انعقاد کے بعد کیا ہے۔ بی جے پی کے مطابق ترنمول کانگریس بی جے پی کے روایتی ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے پی کے اقلیتی مورچہ کے صدر علی حسین نے کہا کہ ترنمول کانگریس نے اقلیتوں کا استحصال کیا ہے ۔ ہم اس سملین کے ذریعہ اقلیتوں کو ترنمول کانگریس کی حقیقت بتانا چاہتے ہیں ۔ حسین نے کہا کہ بنگال میں اقلیتوں کیلئے بی جے پی ہی بہترین متبادل ہے ۔ترنمول کانگریس اقلیتوں کی ترقی پر یقین نہیں رکھتی ہیں ۔ترنمول کانگریس کے دور اقتدار میں اقلیتوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے ۔اقلیتوں کو روزگار کے مواقع نہیں دیے جارہے ہیں ۔

مسلم سملین کے ذریعہ بی جے پی اپنی مسلم مخالف امیج کو ختم کرنے کی کوشش میں

وزیر اعظم نریندر مودی اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی: فائل فوٹو۔

بنگال میں 30فیصد کے قریب مسلم ووٹ ہے ۔ اس لیے بی جے پی مسلم مخالف امیج کو ختم کرنے کیلئے سینئر مسلم رہنماؤں سے رابطہ کرکے بی جے پی میں شامل ہونے کی دعوت دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی نے ایک صحافی کے ذریعہ ٹیپوسلطان مسجد کے سابق شاہی امام مولانا سید نورالرحمن برکتی کو بی جے پی میں شمولیت کی دعوت دی  تھی مگر مولانا نے انکار کردیا ۔ اس کے باوجود بی جے پی کے ذرائع سے کئی اخباروں نے یہ خبر شائع کر دی کہ مولانا برکتی بی جے پی میں شامل ہونے کو تیارہیں۔ تاہم مولانا نور الرحمن  برکتی نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز