پٹنہ میں منعقد قومی خواتین کانفرنس میں معروف افسانہ نگار شموئل احمد کے ساتھ مار پیٹ

Sep 26, 2017 05:25 PM IST | Updated on: Sep 26, 2017 05:26 PM IST

پٹنہ۔  پٹنہ کے معروف افسانہ نگار شموئل احمد پٹنہ میں منعقد قومی خواتین کانفرنس میں شرکت کرنے بہار اردو اکیڈمی پہنچے تھے۔  جہاں ان کے ایک افسانے پر بحث کے دوران گالی گلوج اورمار پیٹ ہونے لگی۔  پروفیسر اعجاز علی ارشد پر الزام ہے کہ انہوں نے گالی گلوج کی اور انکے حامیوں نے شموئل کو دھکا دیکر گرا دیا۔ شموئل کے سر پر چوٹ آئی ہے اور وہ پی ایم سی ایچ میں بھرتی ہیں۔

 شموئل نے ای ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ  انکے افسانہ لنگی سے جڑا ہے۔ لنگی افسانے میں شموئل نے جنسی استحصال پر لکھا ہے اور اسی معاملے پر بحث کرتے ہوئے ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا ۔ شموئل نےاعجاز علی ارشد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ واضح رہے کہ اعجازعلی ارشد خود بھی اردو کے بڑے ادیبوں میں سے ایک ہیں اور وہ اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین  بھی ہیں ۔ وہ مولانا مظہرالحق یونیورسٹی کے سابق وی سی ہیں۔ شموئل کے الزام پر اکیڈمی کے سکریٹری مشتاق نوری نے کہا کہ انکو زیادہ چوٹ نہیں آئی ہے۔

پٹنہ میں منعقد قومی خواتین کانفرنس میں معروف افسانہ نگار شموئل احمد کے ساتھ مار پیٹ

ادھر بہار اردو اکیڈمی کی قومی خواتین کانفرنس میں معروف افسانہ نگار شموئل احمد کے ساتھ ہوئی بد سلوکی پر بہار یونیورسیٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ادھر بہار اردو اکیڈمی کی قومی خواتین کانفرنس میں معروف افسانہ نگار شموئل احمد کے ساتھ ہوئی بد سلوکی پر بہار یونیورسیٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ابوبکر رضوی کے مطابق اردو کی بقا کی لڑائی لڑنے کے بجائے اردو والے آپس میں لڑ رہے ہیں۔ رضوی نے یہ بھی کہا کہ صوبہ میں ابھی اردو کافی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ پرائمری اسکولوں میں اردو کے طلباء کو اردو کی درسی کتابیں دستیاب نہیں ہیں لیکن اس معاملے پر سنجیدہ ہونے کے بجائے اردو والے آپسی رسہ کشی کا شکار ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز