ٹیپوسلطان مسجد میں نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران ہنگامہ ، مولانا برکتی کو درمیان میں ہی چھوڑنا پڑا خطبہ

May 19, 2017 03:41 PM IST | Updated on: May 19, 2017 03:42 PM IST

کلکتہ: سیاست سے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے سینہ میں دل نہیں، لومڑی کا دماغ ہوتا ہے ۔وہ صرف اپنے مفادات کو دیکھتا ہے۔اس کا نظارہ آج کلکتہ شہر کے قلب میں واقع ٹیپوسلطان مسجدکے امام مولانا نورالرحمن برکتی جو ترنمول کانگریس کے قیام کے پہلے دن سے ترنمو ل کانگریس سے وابستہ اور ممتا بنرجی کے قریبی رہے ہیں مگرآج وہ اسی سیاست کے شکار ہوگئے اور انہیں جمعہ کا خطبہ نہیں دینے دیاگیا ۔ دوران خطبہ ہنگامہ آرائی ، بوتل بازی اور شور شرابہ جم کر ہونے کی وجہ سے مولانانے خطبہ کو درمیان میں ہی چھوڑ دیااوران کی جگہ مسجد کے موذن حافظ ہارون نے نماز پڑھائی۔

اطلاعات کے مطابق کلکتہ شہر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں میں ٹیپو سلطان مسجد میں لایا گیا تھا۔جیسے ہی مولانا برکتی جمعہ کی نماز پرھانے کیلئے منبر پر پہنچے ،ہنگامہ آرائی شروع کردی ۔کئی لوگوں کو مولانا کو دھکا دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا ۔اس صورت حال دیکھ کر عام نمازی حیران تھے ۔وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھے ۔ جماعت اسلامی کے سینئر رکن اور مسلم مجلس مشاورت بنگال کے جنرل سیکریٹری عبدالعزیز نے اس پوری صورت حال کو افسوس ناک بتاتے ہوئے کہا کہ مسجد میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور جولوگ بھی پردے کے پیچھے سے کھیل کھیل رہے ہیں ،وہ دراصل ملت اسلامیہ کو ایک بڑے فتنے میں مبتلا کررہے ہیں اوراس کا نقصا ن مسلمانوں کوہی اٹھانا پڑے گا ۔غیروں کو ہنسنے کا موقع ملے گا۔

ٹیپوسلطان مسجد میں نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران ہنگامہ ، مولانا برکتی کو درمیان میں ہی چھوڑنا پڑا خطبہ

عبدا لعزیز نے بتایا کہ مولانا کے متنازع بیانات کے بعد مسلم مجلس مشاورت نے مولانا کو خط لکھ کر منصب امامت کی پاسداری کرنے کی نصیحت دی تھی ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے بھی بات کی تھی اور مولانا نے ہمارے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے متنازع بیانات سے گریز کرنے کا وعدہ کیا تھا۔افہام و تفہیم کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ سیاسی لیڈران اس پورے معاملے میں سامنے آگئے ہیں اور ان کی وجہ سے پورا معاملہ سیاسی بن گیا۔چوں کہ مولانا برکتی کو ہمیشہ سے ممتا بنرجی کی ہمدردی حاصل رہی۔ اس وقت مولانا برکتی سے ممتا بنرجی نے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے ۔اس لئے کچھ لوگ پارٹی قیادت کوخوش کرنے کیلئے پورے معاملے کو طول دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امام کی برطرفی و بحالی کا مسئلہ مسجد کمیٹی اور امام کا مسئلہ ہے جسے شہر کے بااثر افراد اور علماء دین کو بیٹھ کر حل کرلینا چاہیے۔ماضی میں اس سے بڑے بڑے مسئلے حل ہوئے ہیں مگر اس وقت جو صورت حال پیدا ہورہی ہے اور کی جارہی ہے وہ افسوس ناک ہے ۔ایک غلط نظیر قائم ہورہی ہے ۔اس کا نقصان خود مسلمانوں کو ہی اٹھانا پڑے ۔ کلکتہ کے ایک اور ملی رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ترنمول کانگریس کے لیڈروں کے اشارے پر وزیرا عظم نریندر مودی اور بی جے پی کے خلاف بیان بازی کرنے والے مولانا نور الرحمن برکتی اب ترنمول کانگریس کیلئے غیر مستعمل ہوچکے ہیں ۔ پارٹی کے ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ جو اکثر مولانا کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے رہے ہیں، نے بھی بتایا کہ پارٹی نے ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے ۔

خیال رہے کہ دو دن قبل ٹیپو سلطان مسجد انتظامیہ کی کمیٹی ’’پرنس غلام محمد وقف اسٹیٹ ‘‘ کی کمیٹی نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں مولانا کو امامت سے عہدہ سے برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے باوجود مولانا نماز پڑھا رہے تھے اور انہوں نے اس کمیٹی کو وقف بورڈ سے غیر منظورشدہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گزشتہ 28برسوں سے امامت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ ’’پرنس غلام محمد وقف اسٹیٹ ‘‘ انتظامیہ نے مولانا برکتی پر ملک کے مفادات کے خلاف بیانات دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا۔

گزشتہ چند مہینوں میں مولانا برکتی نے بھی کئی متنازع بیانات دیئے ہیں جس میں سے ایک وزیر اعظم مودی کے خلاف داڑھی نوچنے ، ہندوستان کو ہندو راشٹر بنائے جانے کے خلاف جہاد کرنے اور لال بتی لگانے کے اصرار شامل ہیں۔ ترنمول کانگریس کے ایک سینئرلیڈر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ دراصل مسجد کمیٹی کا یہ قدم دکھاوا ہے۔درحقیقت ترنمول کانگریس مولانا برکتی کو کنارہ لگاکر بی جے پی کی پولرائزیشن کی سیاست کی ہوا نکالنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی لیڈروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مولانا سے رابطہ ختم کردیں۔جب کہ آئے دن مولانا برکتی سے ملاقات کرنے کیلئے ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈران اور وزراء آتے رہے ہیں ۔ایک ہفتہ قبل ہی ریاستی وزیر شہری ترقیات فرہاد حکیم نے مولاناکی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز