فیس بک پر ایک قابل اعتراض کے بعد مغربی بنگال کے بدوریا میں فرقہ وارانہ تشدد ، بی ایس ایف کا مارچ

Jul 05, 2017 04:54 PM IST | Updated on: Jul 05, 2017 04:54 PM IST

کولکاتہ: مغربی بنگال میں شمالی 24 پرگنہ ضلع کے بدوریا میں تشدد اور آگ زنی کے واقعات کے بعد آج علاقے میں بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے 400 جوانوں نے مارچ کیا۔ فیس بک پر ایک 'قابل اعتراض پوسٹ پر بسیرہاٹ سب ڈویزن کے بدوریا میں اتوار کو دو فرقوں کے لوگوں کے درمیان تشدد بھڑک گیا تھا تھا۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنا گھر چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں کشیدگی ہے لیکن کل رات کے بعد سرحدی علاقے میں بی ایس ایف جوانوں کو تعینات کئے جانے کے بعد حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران مشتعل ہجوم نے پولیس کی کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا۔ بھیڑ نے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت کئی پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، سلامتی دستوں کو آنے سے روکنے کے لئے سڑکیں کھود دیں اور بدوریا کے آس پاس دکانوں اور مکانات کو نقصان پہنچایا گیا۔

فیس بک پر ایک قابل اعتراض کے بعد مغربی بنگال کے بدوریا میں فرقہ وارانہ تشدد ، بی ایس ایف کا مارچ

سترہ سالہ نوجوان کے فیس بک پر ایک قابل اعتراض پوسٹ کے بعد تشدد بھڑک اٹھا تھا۔لڑکے کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک طرف بدوریا میں لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں وہیں اس معاملہ پر گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی اور وزیر اعلی ممتا بنرجی کے درمیان متنازعہ بات چیت پر ریاست کا سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔محترمہ بنرجی نے مسٹر ترپاٹھی پرامن و قانون کے معاملہ پران کی توہین کرنے اور انہیں دھمکانے کا الزام لگایا ہے۔ راج بھون نے وزیر اعلی کے ذریعہ پریس کانفرنس میں گورنر پر لگائے گئے الزامات پر حیرت ظاہر کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز