دارجلنگ تشدد : مزید دو لوگوں کی موت ، احتجاجیوں کا پولیس پر پتھراو ، اضافی پولیس اہلکار تعینات

Jul 09, 2017 10:17 AM IST | Updated on: Jul 09, 2017 10:17 AM IST

دارجلنگ : مغربی بنگال کے دارجلنگ میں بھڑکے تشدد میں آج مزید دو لوگوں کی موت ہو گئی اور انہیں ملاکر گزشتہ رات سے اب تک مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہو چکی ہے۔ اس علاقے میں حالات بدتر ہو چکے ہیں اور بھیڑ نے ایک پولیس چوکی کو آگ لگا دی اور ٹوائے ٹرین کو بھی نہیں بخشا ہے۔

اس درمیان گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) کے اسسٹنٹ سیکرٹری ونے تمانگ نے الزام لگایا کہ سلامتی دستوں نے ان تینوں کارکنوں کو گولی مار دی ہے۔ گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ کے ایک کارکن کی کو کل رات قتل کر دیا گیا تھا اور دوکارکنوں کو آج گولی ماری گئی۔

دارجلنگ تشدد : مزید دو لوگوں کی موت ، احتجاجیوں کا پولیس پر پتھراو ، اضافی پولیس اہلکار تعینات

بتایا جا رہا ہے کہ ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج میں گورکھالینڈ حامیوں اور ناری مورچہ کارکنوں نے سونادا تھانے کا گھیراؤ کیا اور سلامتی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر پتھراؤ کیا۔ حالات کو قابو میں لانے کے لئے پولیس نے بعد میں ان پر آنسو گیس کے گولے چھوڈے اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے سونادا ہیرٹیج ٹرین کو بھی نہیں بخشا اور ترنمول کانگریس کے ایک دفتر کو آگ کے حوالے کر دیا۔ اس دوران زخمی کانسٹیبل دیپانکر پال کو شمالی بنگال میڈیکل کالج اینڈ اسپتال لے جایا گیا۔

انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظر اضافی سیکورٹی دستوں کو تعینا ت کیا ہے۔ ان کارکنوں کی موت سے مشتعل نوجوان اور خاتون کارکن سڑکوں پر اتر آئے اور جگہ جگہ جام لگانا شروع کر دیا۔ انہوں نے سونادا میں ایک پولیس چوکی کو آگ کے حوالے کر دیا اور دارجلنگ میں فوڈ اینڈ سپلائی محکمہ کے ایک دفتر میں بھی آگ لگا دی۔ ادھر دارجلنگ ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے سونادا میں فائرنگ نہیں کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز