قومی یکجہتی کے قیام میں مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں : مفتی ابو القاسم نعمانی

Aug 10, 2017 07:43 PM IST | Updated on: Aug 10, 2017 07:43 PM IST

کلکتہ : ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں ملک میں قومی یکجہتی کے قیام اور امن و محبت کی فضا کو عام کرنے میں مدارس اسلامیہ کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے ۔ ہندوستانی مدارس نے ملک کی آزادی کی تحریک اور اس وقت ہندوستانی عوام کے درمیان یکجہتی کے ماحول بگاڑنے والوں کے خلاف مہم میں کلیدی کردار اداکیا تھا اور آج بھی جب ملک میں نفرت کا ماحول قائم ہورہا ہے ، اخوت ،مساوات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے تو مدارس اسلامیہ ان حالات میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہاردرالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابو القاسم بنارسی نے کلکتہ میں رابطہ مدارس مغربی بنگال کے سالانہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ برادران وطن کے ساتھ مل کر ملک میں امن و امان اور محبت وبھائی چارہ کا ماحول قائم کریں ۔انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست قوتیں مدارس اسلامیہ کو بدنام کرنے کیلئے مہم چلارہی ہیں ایسے حالات مداراس کے ذمہ داران کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حساب وکتاب میں شفافیت کے ساتھ مشتبہ افراد کو مدارس میں قیام کرانے اور ان سے چندہ لینے میں بھی گریز کیا جائے ۔

قومی یکجہتی کے قیام میں مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں : مفتی ابو القاسم نعمانی

مفتی ابو القاسم نے آج اس بات کا شکوہ کیا کہ جب شک کی بنیاد پر مدارس کے بچوں کو حراست میں لیا جاتا ہے تو میڈیا میں بڑی بڑی خبریں بنتی ہیں مگر جب جانچ ایجنسیاں انہیں ثبوت نہیں ملنے پر رہا کردیتی ہے تو اس کی خبر شائع تک نہیں کی جاتیں ۔انہوں نے حال ہی میں دیوبند شہر سے تین طالب علموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان طلباء کو اے ٹی ایس نے صرف غیر ضروری شک کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا۔ بعد میں اے ٹی ایس خود ان طلباء کو رہا کردیا ۔

انہوں نے کہا کہ بنگال میں امن و امان کا ماحول ہے اور یہاں کی حکومت بھی فرقہ پرستی کے خلاف سرگرم ہے ۔مگر اس طرح کا ماحول اترپردیش اور دیگر ریاستوں میں نہیں ہیں ۔انہو ں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر اسی طرح ہجومی تشدد کا سلسلہ جاری رہا اوراس کے خلاف انتظامیہ کارروائی نہیں کی تو یہ عناصر مدارس پر بھی حملہ آور ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم تصادم سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی تشدد کا جواب مسلمان تشدد سے نہیں دیتا ہے بلکہ قانون اور عدالت کا سہارا لیتا ہے ۔اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس یقین و اعتماد کو باقی رکھا جائے ۔

ممتا بنرجی کی وزارت میں شامل مولانا صدیق اللہ چودھری نے مدارس میں عصری علوم کی تعلیم دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مدارس کے اساتذہ اور طلباء کو بنیادی ضروریات کا علم ہونا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیہ ، انگلش اور دیگر ضروری علم سے طلباء کو واقفیت کرانا چاہیے تاکہ عملی زندگی میں طلباء کسی کے محتاج نہ ہوں ۔انہوں نے سوال کیا کہ دارالعلوم کے عظیم فاضل مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی آئین ساز کمیٹی کے رکن تھے ۔تو پھر مدارس کے علماء و طلباء کو آئین ہند سے واقفیت نہیں رکھنی چاہیے۔لائبریری اور تعلیم بالغاں کے ریاستی وزیر صدیق اللہ چودھری نے کہاکہ مدراس اسلامیہ کو اپنے نظام میں مستحکم کرنے اور آئین و قوانین کے مطابق اپنے طریقہ کار کو پابند بنانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز