سرکاری اسپتال میں نہیں ملی ایمبولینس، کانپتے ہاتھوں میں بیٹی کی لاش لے کر گھر پہنچا غریب

Feb 21, 2017 07:44 PM IST | Updated on: Feb 21, 2017 07:44 PM IST

نئی دہلی۔ اڑیسہ کے کالاہانڈی میں کچھ ماہ پہلے قبائلی دانا مانجھی نامی شخص کو اپنی بیوی کی لاش 10 کلومیٹر تک کندھے پر لے کر چلنا پڑا تھا۔ اس واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اب ایک بار پھر اڑیسہ سے ایسا ہی ایک اور شرمناک معاملہ سامنے آیا ہے جہاں غریب باپ کو پیسے نہیں ہونے پر اپنی بیٹی کی لاش کو موٹر سائیکل کے ذریعے گھر لے جانا پڑا۔

یہ پورا معاملہ کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور کے آبائی ضلع تمكور، اڑیسہ کا ہے جہاں تھممپپا نام کے ایک یومیہ مزدور کی 20 سالہ بیٹی رتھنمما کو تیز بخار اور سانس لینے میں پریشانی کے مدنظر مدھوگری تالک کے كوڈگینهالی میں ایک نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ حالت اور بگڑنے پر اسے رتھنما کے سرکاری ہسپتال میں لے جایا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

سرکاری اسپتال میں نہیں ملی ایمبولینس، کانپتے ہاتھوں میں بیٹی کی لاش لے کر گھر پہنچا غریب

اپنی بیٹی کو کھونے کے دکھ میں ڈوبے والد پر اس کے بعد مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اسپتال میں ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے اسے اپنی بیٹی کی لاش لے جانے کے لئے کوئی گاڑی نہیں ملی۔ تھممپپا کی حالت دیکھ کر وہاں موجود کچھ لوگوں نے اسے کیب بک کرنے کا مشورہ دیا، لیکن اس کے پاس اس کے لئے بھی پیسے نہیں تھے۔ آخر کار تھممپپا نے اپنی بیٹی کی لاش کو گود میں اٹھایا اوراسے موٹر سائیکل کے ذریعے اپنے گھر لے گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز