مظفر پور شیلٹر ہوم عصمت دری معاملہ: سواتی مالیوال نے نتیش کمار کو لکھا خط

مالیوال نے لکھا کہ ’’نتیش کمار جی، آج پھر میں رات میں ٹھیک طرح سو نہیں پائی۔ مظفر پور کے گرلز شیلٹر ہوم کی بیٹیوں کی چیخیں مجھے گزشتہ کئی دنوں سے سونے نہیں دیتیں‘‘۔

Aug 04, 2018 03:19 PM IST | Updated on: Aug 04, 2018 03:19 PM IST

نئی دہلی۔ دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی مالیوال نے بہار کے مظفر پور میں لڑکیوں کے ایک شیلٹر ہوم میں عصمت دری کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کئے جانے کی مانگ کرتے ہوئے ریاست کے وزیر اعلی نتیش کمار کو خط لکھا ہے۔ مالیوال کا خط اس طرح ہے-’’نتیش کمار جی، آج پھر میں رات میں ٹھیک طرح سو نہیں پائی۔ مظفر پور کے گرلز شیلٹر ہوم کی بیٹیوں کی چیخیں مجھے گزشتہ کئی دنوں سے سونے نہیں دیتیں۔ ان کے درد کے سامنے ملک کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ میں چاہ کر بھی اس درد کو اپنے آپ سے الگ نہیں کر پارہی ہوں،اسلئے میں آپ کو یہ خط لکھ رہی ہوں ۔میں جانتی ہوں کہ بہار میرے دائرہ اختیار میں میں نہیں آتا، لیکن ملک کی ایک خاتون ہونے کے ناطے میں یہ خط لکھ رہی ہوں۔ امید ہے آپ میرا یہ خط ضرور پڑھیں گے۔یہ لڑکیاں محض سات سے 14 سال کی عمر تھیں اور زیادہ تر یتیم تھیں‘‘۔

انہوں نے خط میں لکھا ہے ’’کس طرح ' رضا کار تنظیم کا مالک برجیش ٹھاکر نام کا حیوان اور کئی افسر اور لیڈر روز رات میں ان کے ساتھ زیادتی کرتے تھے۔ برجیش ٹھاکر کو وہ ’هنٹروالا انکل‘ کہتی تھی جو ہر رات لڑکیوں کو اپنی ہوس کا شکار بناتا تھا۔ چھوٹی سی 10 سال کی ایک معصوم نے بتایا ہے کہ کس طرح اس کومنشیات دیکر روز رات میں برجیش ٹھاکر اس کے ساتھ ریپ کرتا تھا۔ لڑکیاں رات ہوتے ہی کانپنے لگ جاتی تھیں کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ ان کے ساتھ رات میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جائیں گے‘‘۔

مظفر پور شیلٹر ہوم عصمت دری معاملہ: سواتی مالیوال نے نتیش کمار کو لکھا خط

دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی مالیوال: فائل فوٹو۔

اس گرلز شیلٹر ہوم کی یہ خوفناک صورتحال اپریل 2018 میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سٹڈیز کی ایک رپورٹ میں اجاگر ہوئی۔ مجھے بہت دکھ ہے کہ آپ کی حکومت نے تین ماہ تک اس رپورٹ پر کوئی ایکشن نہیں لیا بلکہ برجیش ٹھاکر نام کی تنظیم کو اور پروجیکٹ دے دیئے۔ جب میڈیا کی طرف سےیہ پورا واقعہ سامنے آیا، تب بھی آپ کوئی سخت فیصلہ لیتے ہوئے نہیں نظر آئے اور آپ نے معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو کو سونپ کر اپنا دامن چھڑالیا۔ آپ کی حکومت کے ایک بھی وزیر یا سنتری کے خلاف اب تک کوئی ایکشن نہیں ہوا ہے‘‘۔

خط میں انہوں نے لکھا ہے-’’سر، آپ کی کوئی بیٹی نہیں ہے لیکن میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر ان 34 لڑکیوں میں سے ایک بھی آپ کی بیٹی ہوتی تو بھی آپ کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتے؟

آپ کے اس ایک فعل سے آپ نے اس ملک کی کروڑوں خواتین اور بچیوں میں اپنی عزت گنوا دی ہے۔ میں بار بار یہ سوچ کر پریشان ہو رہی ہوں کہ ان لڑکیوں کا اب کیا حال ہے، جس حکومت کی طرف سے انہیں انصاف نہیں ملا، کیا وہ حکومت ان کا ابھی خیال رکھنے کے قابل ہے؟ کیا وہ لڑکیاں اب بھی کسی گرلز شیلٹر ہوم میں گھٹ رہی ہیں یا کم از کم اب ان کےبہتر مستقبل کے لئے کوئی کام ہو رہا ہے؟ کیا ان کو اچھا اسکول بھیجا جانا شروع ہو گیا ہے؟ کیا ان کے کھانے پینے، کھیلنے کودنے کے بہتر انتظامات ہوئے ہیں؟ کیا انہیں ماہر نفسیات کی مدد دی جا رہی ہے؟ کیا ان کی صحت اب بہتر ہے؟

مالیوال  نے لکھا کہ کیا ان کے ارد گرد کا ماحول اب محفوظ اور خوشگوار ہے؟ کیا ان کو اپنے بیان تبدیل کرنے کے لئے کوئی دباؤ تو نہیں بنا رہا؟ یہ سوال میرے ذہن میں بار بار گھوم رہے ہیں۔ میں آپ سے گزارش کرنا چاہوں گی کہ آپ یہ بتائیں کہ بہار حکومت ان لڑکیوں کے مفاد میں کیا قدم اٹھا رہی ہے؟ میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز