۔" مسلمان ہونے کی وجہ سے فلیٹ خالی کرنے کیلئے کہا گیا "۔

کولکاتہ کے کڈاگھاٹ علاقہ میں ایک فلیٹ میں رہنےو الے چار ڈاکٹروں نے الزام لگایا ہے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے پڑوسیوں کے ذریعہ فلیٹ خالی کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔

Aug 02, 2018 09:34 PM IST | Updated on: Aug 02, 2018 09:34 PM IST

کولکاتہ کے کڈاگھاٹ علاقہ میں ایک فلیٹ میں رہنےو الے چار ڈاکٹروں نے الزام لگایا ہے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے پڑوسیوں کے ذریعہ فلیٹ خالی کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ کولکاتہ کے مختلف اسپتالوں میں ٹریننگ لے رہے محمد آفتاب عالم ، ایم حسن ، ناصر شیخ اور شوکت شیخ نے اس وقت راحت کی سانس لی تھی جب فلیٹ ڈھونڈتے وقت ان کی ملاقات سدپت مترا سے ہوئی۔ سدپت کو ان سے کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی نہیں تھی اور انہوں نے چاروں ڈاکٹروں کا اپنا فلیٹ کرایہ پر دیدیا ۔

بیلی گھاٹ سنکرامک روگ اسپتال میں ٹریننگ لے رہے عالم نے بتایا کہ ہم امن و سکون کے ساتھ رہ رہے تھے ، لیکن پڑوسیوں نے ہمارے اس جگہ میں رہنے کی کئی مرتبہ مخالفت کی ۔ منگل کو اس وقت صورتحال خراب ہوگئی جب ہمارا ایک دوست شمالی بنگال سے انٹرویو کیلئے یہاں آیا اور رات میں ہمارے ساتھ رہا ۔ پڑوسیوں نے اسے شناختی کارڈ دکھانے کیلئے کہا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ بہت سے لوگوں نے پہلے ہی ہمیں ہمارے مذہب کی وجہ سے گھر کرایہ پر دینے سے انکار کردیا تھا ۔ کافی تلاش کے بعد ہمیں یہ فلیٹ ملا تھا۔

۔

علامتی تصویر

عالم نے بتایا کہ ہمیں لوگوں کے سامنے بے عزت کیا گیا اور ہمیں یہاں سے جانے کیلئے کہا گیا ۔ میں نے ان سے کہا کہ ان کے پاس مذہب کی وجہ سے ہمارے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

عالم نے بتایا کہ ہم نے اپنی یہ پریشانی ٹویٹر پر شیئر کی ، جس کے بعد سنگھاتی ابھیجن نام کی ایک این جی او کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی ۔ این جی او کی جانب سے بدھ کو پڑوسی سے بات کی گئی اور معاملہ حل ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر علاج کرنے سے پہلے کبھی بھی مریض کا مذہب نہیں پوچھتا ۔ ادھر فلیٹ مالک نے اپنے کرایہ داروں کے ساتھ کئے گئے رویہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز