مودی کا فلسطین کا تاریخی دورہ خطہ میں امن کی کوشش کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے : نجمہ ہپت اللہ

Feb 10, 2018 08:06 PM IST | Updated on: Feb 10, 2018 08:06 PM IST

امپھال : وزیر اعظم نریندر مودی کے فلسطین کے دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے منی پور کی گورنر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے کہا ہے کہ ان کی تمنا ہے کہ یہ دورہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کی کوشش کو اس طرح پایہ تکمیل تک پہنچائے کہ وزیر اعظم ہند امن کے نوبل انعام کے حقدار بن جائیں۔ سابق وزیر برائے اقلیتی امور نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسٹرمودی کے اس تاریخی دورے سے عمومی طور پر امن عالم اور خصوصی طور پر اس خطے میں امن و آشتی کے قیام میں بہت مدد ملے گی ۔ اس وقت مسٹر مودی کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے جس پر کہ ان دو ملکوں کو اعتماد ہو۔’’دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی تمام کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ صرف فلسطین اور اسرائیل بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے درمیان امن، ماحولیاتی مسائل پر مثبت کوششوں کے ذریعہ تمام لوگوں کا اعتمادحاصل کیا ہے‘‘۔

محترمہ نے کہا کہ ’’میں تقریبا چار دہائیوں سے اس رُخ پر کوشاں ہوں اور جب میں مرکزی حکومت میں وزیر برائے اقلیتی امور تھی، اس وقت انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں فلسطینی رہنما محمود عباس کے ساتھ ایک خاص پروگرام میں ملاقات کی تھی جس میں اس حوالے سے بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد انٹر پارلیا منٹری یونین (آئی پی یو) کی سربراہ کی حیثیت سے میں نے فلسطین کی نیشنل اسمبلی اور اسرائیل کی کینیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے بھی خطہ میں امن کی فضا ہموار کرنے پر زور دیا تھا‘‘۔

مودی کا فلسطین کا تاریخی دورہ خطہ میں امن کی کوشش کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے : نجمہ ہپت اللہ

منی پور کی گورنر نے مزید کہا کہ اسرائیل فلسطین اختلافات ہمارے ملک کے آزاد ہونے کے پہلے سے جاری ہیں۔ اور جس طرح کی کوششیں اور نتائج وزیر اعظم ہند کی رہی ہیں ان کے پیش نظر مجھے یقین ہے کہ وہ مکمل طور پر کامیاب ہوں گے اور ان دونوں ملکوں کے درمیان امن چاہنے والوں کی نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعم نریندر مودی فلسطین کے تاریخی دورے پر جانے والے پہلے وزیر اعظم ہیں۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے فلسطین ہند تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کے سلسلہ میں ہی وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو’’طوق کبیر‘‘ اعزاز سے نوازا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے ساتھ تعلقات گاندھی جی کے زمانے سے ہی اچھے رہے ہیں اور فلسطین پر ہندوستان ہمیشہ سے ایک واضح موقف رکھتا آیا ہے۔ ابھی کچھ دنوں قبل اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہندستان کا بہت ہی کامیاب دورہ کیا تھا اور ان کی وزیر اعظم نریندر مودی جی کے ساتھ بہت ہی کا آمد بات چیت ہوئی تھی۔

ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ کے خیال میں فلسطین ۔ اسرائیل دیرینہ باہمی اختلافات کو نریندر مودی جی بہت اچھے طریقے سے حل کر سکتے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان حالت کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔اس وقت نریندر مودی ہی ایسے لیڈر ہیں جن پر فلسطین اور اسرائیل دونوں ملکوں کے عوام بھروسہ کرتے ہیں۔ بین اقوامی سطح پر اس طرح لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے والا کوئی دوسرا لیڈر موجود نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز