کلکتہ کے تاریخی ادارہ مسلم انسٹی ٹیوٹ میں انتظامیہ کے انتخاب کی وجہ سے شہر میں گہما گہمی کا ماحول

Aug 03, 2017 09:48 PM IST | Updated on: Aug 03, 2017 10:13 PM IST

کلکتہ : کلکتہ شہر کا 113سالہ قدیم تاریخی ، ثقافتی اور سماجی ادارہ مسلم انسٹی ٹیوٹ میں انتظامیہ کے انتخاب کو لے کر شہر میں گہما گہمی کا ماحول ہے ۔5اگست کو انتخاب ہونا ہے. مسلم انسٹی ٹیوٹ کلکتہ کے مسلمانوں کیلئے ثقافتی ، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے اور حالیہ دنوں میں اس میں گراوٹ آئی ہے ۔ موجودہ جنرل سیکریٹری اورانڈین رینیو سروس آفیسر شمشیر عالم گروپ کے خلاف میدان میں سرگرم مخالف پینل نے آج شہر کے ایک ہوٹل میں منعقد پریس کانفرنس میں مسلم انسٹی ٹیوٹ میں فعال اور تعلیمی مرکز بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں مسلم انسٹی ٹیوٹ کی نہ صرف کارکردگی میں گراوٹ آئی ہے بلکہ مالی بے ضابطگی اور اقربا پروری میں بھی اضافہ ہواہے ۔مسلم انسٹی ٹیوٹ میں جہاں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور مولانا آآد نیشنل اردو یونیورسٹی کا اسٹڈی سنٹر قائم ہے ۔پروفیسر نعیم انیس جو خود مجلس عاملہ کا انتخاب لڑرہے ہیں نے بتایا کہ ایک زمانے میں مسلم انسٹی ٹیوٹ کا اسٹڈی سنٹر کو ملک بھر کے تمام اسٹڈی سنٹروں میں اول مقام حاصل تھا اور یہاں ایک ہزار سے زاید بچے پڑھتے تھے اور اس کیلئے باضابطہ کلاسیں ہوتی تھی مگر اب طلباء کی تعداد میں نہ صرف کمی آگئی ہے بلکہ ایم اے اردو کیلئے کلاسیں بھی نہیں ہورہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم انسٹی ٹیوٹ کا آل انڈیا مشاعرہ ہمیشہ سے تاریخی رہا ہے اور یہاں ملک کے نامور شعراء آتے رہے ہیں مگر گزشتہ چند سالوں سے یہ سلسلہ بھی بند کردیا گیا ہے۔اسی طرح کوچنگ کلاسیس میں صحیح طریقے نہیں ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے مدھیامک اور ہائی سیکنڈری کے نتائج آنے کے بعد طلباء کی کاؤنسلنگ ہوتی تھی اور انہیں کالج میں داخلہ کیلئے مدد کی جاتی تھی۔مگر موجودہ انتظامیہ نے اس کو بھی بند کردیا ہے۔اسی طرح مسلم انسٹی ٹیوٹ کا کھیل شعبہ ملک بھر میں مشہور رہا ہے اور یہاں کے وابستہ کھلاڑیوں نے ملک بھر میں شہرت حاصل کی ہے۔بلیرڈ کھیل میں دنیا بھر میں اپنی شہرت کو لوہا منواچکے گیت سیٹھی بھی یہاں پر کھیل چکے ہیں ۔مگر اب بلیرڈ سیکشن زوال پذیر ہے ۔اسی طرح فٹ بال ٹیم گزشتہ کئی سالوں سے ریلیگیشن کی جنگ لڑرہی ہے۔

کلکتہ کے تاریخی ادارہ مسلم انسٹی ٹیوٹ میں انتظامیہ کے انتخاب کی وجہ سے شہر میں گہما گہمی کا ماحول

file photo

تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس انتخاب میں کچھ ایسے چہرے ہیں جنہیں دونوں گروپ نے اپنا امیدوار قرار دیا ہے مگر آج پریس کانفرنس میں ان تینوں امیدواروں نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ انتظامیہ کے گروپ کے خلاف میدان میں ہیں۔اس گروپ کی طرف سے کلکتہ کی کئی مشہور شخصیتیں میدان میں ہیں جس میں سماجی کارکن جمیل منظر، پروفیسر نعیم انیس، ڈاکٹر نوشاد مومن ایڈیٹر مژگاں، ڈاکٹر صباح اسماعیل، اقبال حیات خان، شاہ تحسیسن احمد، حیدر علی خان، جمال الدین احمد صدیقی ،حسان حسین حسینی، محمد نور الدین، شاہنواز خان، ابو ریحان، حافظ محمد انوارسہیل، اسماعیل، جاوید اختر، نذرالاسلام، زاید علی، شیخ سعید اختر،ساجد پرویز، شیخ حشمت حسین ، شہزاد افروز ہیں ۔خیال رہے کہ دوسرے گروپ کی جانب سے مغربی بنگال اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر حیدر عزیز صفوی، موجودہ جنرل سیکریٹری شیخ شمشیر عالم اور دیگر افراد شامل ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز