ہندوستان میں یونیورسٹیوں میں اظہار رائے کی آزادی کو شدید خطرات لاحق : منموہن سنگھ

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آج جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اورحیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے حوالے سے کہا کہ اختلاف رائے کو غیر جمہوری طریقے سے دبانے کی کوشش سے تعلیمی اداروں پر منفی اثر پڑے گ

Jan 20, 2017 03:43 PM IST | Updated on: Jan 20, 2017 03:43 PM IST

کلکتہ : تعلیمی اداروں میں اظہار رائے کی آزادی پر لاحق خطرات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آج جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اورحیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے حوالے سے کہا کہ اختلاف رائے کو غیر جمہوری طریقے سے دبانے کی کوشش سے تعلیمی اداروں پر منفی اثر پڑے گا اور طلباء میں تخلیقی صلاحیتوں کی کمی آئے گی۔

پریڈنسی یونیورسٹی کے دو سالہ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرا عظم منموہن سنگھ نے کہا کہ میں یونیورسٹیوں میں اظہار رائے کی آزادی کا پرجوش حامی ہوں ۔چاہے وہ آزادی قدیم سماجی و دانشور وں کے خیالات سے متصادم ہی کیوں نہ ہوں ۔اس کے باوجودہمیں اس آزادی کی حفاظت کرنی ہوگی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت تعلیمی اداروں میں آزادانہ خیالات و اظہار رائے کی آزادی کو خطرات لاحق ہیں ۔تعلیمی اداروں میں پولیس کی مداخلت افسوس ناک ہے ۔

ہندوستان میں یونیورسٹیوں میں اظہار رائے کی آزادی کو شدید خطرات لاحق : منموہن سنگھ

منموہن سنگھ نے تعلیمی اداروں کی خود مختاری کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ اس کی حفاظت کیلئے ہمیں جدو جہد کرنا چاہیے اور اختلافات رائے کو غیر جمہوری طریقے سے دبانے کی کوشش کے خلاف متحد ہونے کی کوشش ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز