بہار : 13 اضلاع میں سیلاب کی صورتحال بے قابو، اب تک 78 اموات ، سبھی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر

نیپال میں ہو رہی بارش سے بہار کی تمام اہم ندیوں کے خطرے کے نشان سے اوپر رہنے کے سبب ریاست کے 13 اضلاع میں سیلاب کی صورتحال بے قابو ہو گئی ہے اور اس سے اب تک 78 لوگوں کی موت ہو چکی ہے

Aug 16, 2017 10:48 AM IST | Updated on: Aug 16, 2017 10:48 AM IST

پٹنہ:  نیپال میں ہو رہی بارش سے بہار کی تمام اہم ندیوں کے خطرے کے نشان سے اوپر رہنے کے سبب ریاست کے 13 اضلاع میں سیلاب کی صورتحال بے قابو ہو گئی ہے اور اس سے اب تک 78 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ سیلاب سے متاثر تقریباً 80 لاکھ لوگوں کو جنگی پیمانے پر راحت اور بچاؤ کے لئے فوج کے علاوہ تین ہیلی کاپٹروں کو تعینات کیا گیا ہے۔  محکمہ آفات مینجمنٹ کے سرکاری ذرائع نے کل یہاں بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے پورنیہ، کشن گنج، ارریہ، کٹیہار، مدھے پورہ، سپول، مشرقی اور مغربی چمپارن، دربھنگہ، مدھوبني، سیتامڑھی، شیوہر اور مظفر پور اضلاع کے 92 بلاک متاثر ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں تقریباً 80 لاکھ کی آبادی سیلاب سے متاثر ہے۔

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کل دوسرے دن سیلاب سے متاثرہ پانچ اضلاع کا ہوائی سروے کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔  مسٹر کمار نے ریاست کے چیف سکریٹری انجنی کمار سنگھ کے ساتھ مشرقی چمپارن، شیوہر، سیتامڑھی، مدھوبنی اور دربھنگہ اضلاع کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ہوائی سروے کیا۔ سروے کر کےواپس لوٹنے کے بعد وزیر اعلی نے ایک جائزہ میٹنگ کی جس میں چیف سکریٹری انجنی کمار سنگھ، محکمہ آبی وسائل کے چیف سکریٹری ارون کمار سنگھ، محکمہ صحت کے پرنسپل سکریٹری آر کے مہاجن، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری پرتیہ امرت، تعمیرات محکمہ کے پرنسپل سکریٹری امرت لال مینا، دیہی امور کے سکریٹری ونے کمار اورنیم فوجی دستہ کے ڈائریکٹر جنرل پی این رائے سمیت کئی دیگر سینئر افسران موجود تھے۔

بہار : 13 اضلاع میں سیلاب کی صورتحال بے قابو، اب تک 78 اموات ، سبھی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر

Loading...

وزیر اعلی نے میٹنگ میں سیلاب سے پیدا شدہ حالات کے سلسلے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور متعلقہ حکام کو جنگی پیمانے پر راحت اور بچاؤ کام چلائے جانے کی ہدایت دی۔ مسٹر کمار آج مغربی چمپارن ضلع کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ہوائی سروے کریں گے۔  ذرائع نے بتایا کہ سیلاب سے متاثر ان 13 اضلاع میں نیشنل ڈیزاسٹر فورس (این ڈی آر ایف) کی 22 ٹیموں کے ساتھ 100 کشتیاں اور آفت سے نمٹنے والی ریاستی فورس (ایس ڈی آر ایف) کی 15 ٹیموں کے ساتھ 82 کشتیاں 24 گھنٹے ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے۔ این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیم کے ساتھ ڈاکٹروں کا موبائل دستہ بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسی طرح فوج کی سات کمپنیوں کو متاثرہ علاقوں میں کل سے ہی لگا دیا گیا ہے۔ فوج کی 40 کشتیاں متاثرہ علاقوں میں لگائی گئی ہیں۔ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر سیتامڑھی، مدھوبنی، مغربی اور مشرقی چمپارن ضلع کے نشیبی علاقوں میں فوج کی تین کمپنیوں کو خاص طور پر بھیجا گیا ہے۔  سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پھنسے ہوئے لوگوں کو خوراک فراہم کرنے کے لئے فضائیہ کے دو ہیلی کاپٹروں کو لگایا گیا ہے۔ وہیں، ایک اور ہیلی کاپٹر مغربی چمپارن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان فراہم کرنے میں لگا ہے۔ ہیلی کاپٹر سے خشک خوراک کے ساتھ ہی روزمرہ کا سامان سیلاب متاثرین کے درمیان گرائے جا رہے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے 258 ریلیف کیمپ کھولے گئے ہیں۔ ان کیمپوں کے علاوہ جانوروں کیلئے ریلیف کیمپ بھی اونچے مقامات پر بنائے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے اب تک دو لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ریلیف کیمپوں میں لوگوں کو کھانا فراہم کرایا جا رہا ہے۔ سارن ضلع کے مانجھی تھانہ علاقہ کے سريگ ندی کے تیز دھارے میں کل ایک نوجوان کے ڈوب جانے سے ہوئی موت کے ساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 78 ہو گئی ہے۔  اس کے علاوہ سیلاب کے دوران کشن گنج میں 10، ارریہ میں 20، مشرقی چمپارن میں 11، سپول، مدھوبنی اور کٹیہار میں 04-04، مغربی چمپارن میں 14، دربھنگہ میں 03 اور سیتامڑھی میں 07 لوگوں کے پانی کے تیز دھارے اور سانپ کاٹنے سے موت کی اطلاع ہے۔ اگرچہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ نے سیلاب سے اب تک 51 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

سیلاب کی وجہ سے مغربی چمپارن ضلع کا گورکھپور سے ریل رابطہ ٹوٹ گیا ہے وہیں کشن گنج ریلوے اسٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک پر سیلاب کا پانی آ جانے کی وجہ سے گزشتہ دو دنوں سے ریل آپریشن میں خلل پیدا ہوگیا ہے۔ کشن گنج میں نیشنل ہائی وے پر پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے شمال مشرقی ہند کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے ۔ اسی طرح کل صبح مظفر پور ضلع میں باگمتی ندی کے رنگ ڈیم کو نقصان پہنچنے سے گائے گھاٹ کے تین پنچایتوں کا ضلع ہیڈکوارٹر سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے ۔ شوداها پنچایت مکمل طور پر جزیرہ نظر آ رہا ہے اور یہاں کے لوگوں کو کشتیوں کی مدد سے اونچے مقامات پر لے جایا گیا ہے۔  اس دوران محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹے کی پیشن گوئی میں کہا ہے کہ بہار کی تمام ندیوں کے طاس علاقوں میں معمول سے درمیانہ درجہ کی بارش ہونے کا امکان ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز