بہار : سیمانچل میں سیلاب کی بھیانک تباہی ، 8 فٹ تک گھروں میں گھسا پانی ، لوگ دانے دانے کیلئے محتاج

Aug 14, 2017 08:25 PM IST | Updated on: Aug 14, 2017 08:25 PM IST

نئی دہلی/ فاربس گنج : بہار خاص طور پر سیمانچل کا علاقہ اس وقت بھیانک سیلاب کی زد میں ہے جہاں گھروں میں آٹھ فٹ تک پانی داخل ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ سے وہاں کے باشندے دانے دانے کو ترس رہے ہیں۔ اس طرح باتیں سیمانچل کے سیلاب متاثرین نے کہی ہیں۔ فون پر بات کرتے ہوئے لوگوں نے بتایا کہ پانی اچانک آگیا ہے اور گھروں سے سامان نکالنے کا وقت بھی نہیں مل سکا۔لوگوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے مویشی کے ساتھ فوری طور پر اونچے مقامات پر پناہ لی اور حکومت کی راحت رساں ٹیم کا انتظار کرتے رہے۔مگر اب تک حکومت کی طرف سے کوئی مدد نہیں آئی ہے۔

فاربس گنج کے لوگوں نے بتایا کہ فاربس بلاک کی چہادر دیوار سے اوپر سے پانی بہہ رہا ہے۔ بلاک سے آدھے کلو میٹر سے بھی کم دوری پر فورلین ہے جہاں پر لوگوں نے مویشی کے ساتھ ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ تین چار دن ہوگئے مگر اب تک ان کی خیرو خبر لینے کے لئے کوئی نہیں آیا۔ جب کہ بی ڈی او اور ایس ڈی او ، سی او آفس وہاں سے بہ مشکل آدھا کلو میٹر بھی نہیں ۔ فاربس بلاک سے متصل گاؤں بھجن پور پوری طرح سیلاب میں ڈوب چکا ہے اور یہ گاؤں چاروں طرف سے باندھ سے گھرا ہوا ہے لیکن جب پانی داخل ہوجاتا ہے تو نکلتا بھی مشکل سے ہے۔

بہار : سیمانچل میں سیلاب کی بھیانک تباہی ، 8 فٹ تک گھروں میں گھسا پانی ، لوگ دانے دانے کیلئے محتاج

وہاں کے لوگوں نے الزام لگایا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں مقامی انتظامیہ اور پولیس کا رویہ متعصبانہ ہے۔ مدد کرنے کے بجائے طرح طرح لوگوں کو پریشان کرنے پر لگے ہیں۔ راحت رساں اور این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں کے نہ پہنچنے کے خلاف وہاں کے لوگوں نے انتظامیہ کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرنے کے لئے آج روڈ کو جام کردیا۔ خبر لکھے جانے تک وہاں اب تک کوئی امدادی سامان ،نہ میڈیا اور نہ ہی دیگر امدادی گروپ وہاں پہنچا ہے۔

دریں اثنا دہلی میں دہلی یونیورسٹی کے استاذ پروفیسر یحی صبا نے سیلاب کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ اس قدر بھیانک سیلاب اب تک کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے کہاکہ ان کی ڈی ایم سے بات ہوئی ہے لیکن راحت رسانی کے سلسلے میں وہ کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کراسکے۔ انہوں ارریہ کے رکن پارلیمنٹ تسلیم الدین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سے بات چیت کی ہے لیکن مسٹر راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ جو کچھ کریں گے وہاں کے ڈی ایم ہی کریں گے۔

اسلامک پیس فاؤنڈیش کے جنرل سکریٹری مولانا طارق انور قاسمی نے وہاں کی بدترین صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی امداد پر منحصر رہنا ٹھیک نہیں ہوگا اور حکومتی امداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ انہوں نے اصحاب خیر سے اپیل کی کہ وہ سیمانچل کے لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے لئے آگے آئیں۔

ارریہ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر اویس یاسین نے سیمانچل میں سیلاب کی تباہی پر نتیش کمار پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ سوشاسن کی پول کھل گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسٹر نتیش کمار نے دعوی کیا تھا کہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے سارے انتظامات کرلئے گئے ہیں۔جب انتظام تھا تو پھر اتنی تباہی کیوں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ سیمانچل میں نہروں اور ندیوں کی گاد نکال کر صفائی کردی گئی ہوتی اتنی بھیانک صورت حال نہیں ہوتی۔ واضح رہے کہ سیمانچل کے اضلاع ارریہ، پورنیہ، کشن گنج سوپول اور دیگر علاقے بھیانک سیلاب کی زد میں ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیلاب 1987اور 2008 سے بھی تباہ کن ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز