ادیتیہ سچدیوا قتل معاملہ: اہم ملزم راکی یادو سمیت تین کو عمر قید کی سزا

Sep 06, 2017 06:29 PM IST | Updated on: Sep 06, 2017 06:30 PM IST

گیا۔  بہار میں جنتا دل یونائٹیڈ سے معطل قانون ساز کونسل کی رکن منورما دیوی کے بیٹے راکی یادو سمیت تین کو ادیتیہ سچدیوا قتل معاملے میں گیا کی ایک عدالت نے آج عمر قید اور جرمانہ کی سزا سنائی۔ ایڈیشنل ضلع اورسیشن جج سچدانند سنگھ کی عدالت نے یہاں معاملے کے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد راکی یادو ، اسکے چچا زاد بھائی ٹونی یادو اور باڈی گارڈ راجیش کمار کو قصور وار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا اور راکی کے والد اور گیا ضلع کاونسل کے سابق صدر بندی یادو کو پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے راکی پر ایک لاکھ روپے اور دیگر تینوں پر پچاس پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

عدالت نے قتل کے معاملے میں 31اگست کو سماعت کے بعد ان چاروں کو قصور وار قرار دیا تھا۔ معاملے کی سماعت کے دوران گیا عدالت کو پولیس چھاونی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

ادیتیہ سچدیوا قتل معاملہ: اہم ملزم راکی یادو سمیت تین کو عمر قید کی سزا

راکی یادو کی فائل فوٹو۔

خیال رہے کہ سات مئی 2016کو گیار کے ہارڈ وےئر کاروباری شیام سچدیوا کے بیٹے ادیتیہ اپنے دوستوں کے ساتھ بودھ گیا میں سالگرہ کی پارٹی منا کر گھر لوٹ رہا تھا کہ پولیس لائن کے نزدیک پیچھے سے آرہی گاڑی کو آگے جانے کے لئے جگہ نہیں دینے پر اسے گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ قتل کا الزام راکی یادو پر عائد کیا گیا جس کے بعد وہ فرار ہوگیا۔ راکی کے والد اور ضلع کاونسل کے سابق صدر بندی یادو پر اپنے بیٹے کو فرار ہونے میں مدد کرنے کا الزام لگا تھا ۔ حالانکہ دس مئی کو بودھ گیا تھانہ علاقہ میں راکی کو والد کے ایک ٹھکانے سے گرفتار کرلیا گیا۔

اس قتل کے معاملے میں راکیش رنجن یادو عرف راکی اور اس کے باڈی گارڈ راجیش کمار کو نامزد ملزم بنایا گیا تھا۔ جانچ کے دوران اصل ملزم راکی کے والد اور گیا ضلع کاونسل کے سابق صدر بندی یادو اور ان کے چچا زاد بھائی راجیو کمار عرف ٹونی یادو کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ واقعہ کے وقت ادیتیہ کے ساتھ گاڑی پر سوار اس کے چاروں دوستوں نے قتل ہونے کی بات تو تسلیم کی لیکن ملزم کی شناخت کرنے سے مکر گئے ۔ عدالت میں گواہی کے دوران ادیتیہ کے دوستوں نے ملزمین کو پہچاننے سے انکار کردیا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز