دارجلنگ بحران پر ممتابنرجی کی طلب کردہ میٹنگ میں گورکھا جن مکتی مورچہ شرکت کیلئے تیار

Aug 26, 2017 08:01 PM IST | Updated on: Aug 26, 2017 08:01 PM IST

کلکتہ : گورکھا جن مکتی مورچہ نے دارجلنگ میں امن کے قیام کیلئے مغربی بنگال حکومت کی طرف سے 29اگست کوطلب کی گئی آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کیلئے دعوت نامہ ملنے کے بعد شریک ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔خیال رہے کہ گورکھا جن مکتی مورچہ کی قیادت میں ہی علاحدہ ریاست کی تشکیل کیلئے دارجلنگ اور دیگر پہاڑی علاقوں میں ہڑتال اور احتجاج جاری ہے۔

گورکھا جن مکتی مورچہ کے ممبر اسمبلی و سینئر لیڈر امر سنگھ رائے نے کہا کہ کل رات ہمیں حکومت کی طرف سے میٹنگ میں شرکت کی دعوت ملی ہے۔گورکھا جن مکتی مورچہ نے میٹنگ میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس مذاکرات میں مورچہ کے سینئر لیڈروں کا ایک وفد شرکت کرے گا ۔اب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کہ اس وفد میں مورچہ کے کون لیڈر شامل ہوں گے۔

دارجلنگ بحران پر ممتابنرجی کی طلب کردہ میٹنگ میں گورکھا جن مکتی مورچہ شرکت کیلئے تیار

علاحدہ ریاست کے قیام کے مطالبے کو لے کر دارجلنگ میں اور دیگر پہاڑی علاقوں میں ہڑتال 73ویں میں داخل ہوگیا ہے ۔مغربی بنگال حکومت کے سینئر آفیسر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ذریعہ ریاستی سیکریٹریٹ میں طلب کردہ میٹنگ میں شرکت کیلئے دیگر جماعتوں کے ساتھ گورکھا جن مکتی مورچہ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔اس میٹنگ میں دیگر جماعتوں میں جے اے پی، جی این ایل ایف ، اے بی جی ایل اور دیگر پہاڑ کی سیاسی جماعتیں شامل ہیں ۔

اس سے قبل گورکھا جن مکتی مورچہ نے کہا تھا کہ وہ اسی وقت میٹنگ میں شرکت کریں گے جب انہیں باضابطہ سرکاری طور پر میٹنگ میں شرکت کیلئے طلب کیا جائے گا ۔گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ نے مغربی بنگال حکومت سے دارجلنگ میں جاری تعطل کو ختم کرنے کیلئے آل پاٹی میٹنگ طلب کرنے کی اپیل کے بعد حکومت نے 29اگست کو میٹنگ طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

گورکھا جن مکتی مورچہ کے لیڈر نے کہاکہ ہمیں مذاکرات کیلئے مدعو کیا گیا ہے اس لیے بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔گورکھا جن مکتی مورچہ نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو خط لکھ کر دارجلنگ میں جاری تعطل کو ختم کرنے کیلئے پہل کرنے کی اپیل کی گئی تھی ۔مورچہ کے سینئر لیڈر بنے تمانگ نے وزیراعلیٰ کے نام خط میں لکھا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ انصاف کا معاملہ کریں اور برابری کا حق دیں یا پھر علاحدہ ریاست گورکھا لینڈ کی تشکیل کی راہ ہموار کریں ۔گورکھا جن مکتی مورچہ کے صدر بمل گورنگ نے بھی وزیراعلیٰ سے سیاسی مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی تھی۔

خیال رہے کہ دارجلنگ میں جاری ہڑتال اب عوام کے برداشت کے باہر ہوتا جارہا ہے۔دارجلنگ کی سیاسی جماعتوں پر عوامی دباؤبڑھتا جارہا ہے ۔کیوں کہ کئی دہائیوں کے بعد یہ سب سے زیادہ طویل ہڑتال ہے ۔ ہڑتال کی وجہ سے دارجلنگ کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔چائے باغات اور سیاحت جو دارجلنگ کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے وہ ختم ہوچکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ علاحدہ ریاست کے علاوہ کسی امور پر بات چیت سے انکار کرنے والی گورکھا جن مکتی مورچہ کے رخ اور موقف کافی نرمی آگئی ہے ۔

وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے ذریعہ ریاست بھر میں پہلی جماعت سے 10ویں جماعت تک بنگلہ کو لازمی کیے جانے کے بعد سے ہی دارجلنگ میں بنگال حکومت کے خلاف احتجاج و ہڑتال شروع ہوگیا تھا اور 12جون کو کئی دہائیوں کے بعد بنگال حکومت کے کابینہ کی میٹنگ کے دوران پولس اور مورچہ کے درمیان جھڑپ کے بعد سے ہی دارجلنگ میں حالات کشیدہ ہیں اور ہڑتال جاری ہے۔پہلے مورچہ نے صرف مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کیلئے رضامندی ظاہر کی تھی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز