بادوریا فساد کی جانچ این آئی اے سے کرانے سے متعلق مرکزاپنا موقف پیش کرے : کلکتہ ہائی کورٹ

Jul 12, 2017 08:02 PM IST | Updated on: Jul 12, 2017 08:02 PM IST

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ نے آج مرکزی حکومت سے سوال کیا ہے کہ حال ہی میں شمالی 24پرگنہ کے بادوریا میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی جانچ مرکزی جانچ ایجنسی این آئی اے سے کرانے سے متعلق اس کا موقف کیا ہے ۔ مفاد عامہ عرضی دائرکرتے ہوئے اس فسادات کی جانچ این آئی اے سے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔اس پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نشیتا مہاترے اور جسٹس ٹی چکرورتی نے مرکزی حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ مرکزاس پر اپنا موقف پیش کریں

مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالسٹر جنرل کوشک چندا نے عدالت سے وہ مرکزی حکومت کا موقف جلد ہی پیش کریں گے ۔چندا سے عدالت نے کہا کہ 21جولائی تک مرکزی حکومت کا موقف پیش کریں اس کے بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت ہوگی ۔اس کے علاوہ بنچ نے مغربی بنگال حکومت کو ہدایت دی ہے کہ بادوریا میں حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے کیا اقدامات کیے ہیں اس سے عدالت کو 21جولائی تک آگاہ کرائیں ۔

بادوریا فساد کی جانچ این آئی اے سے کرانے سے متعلق مرکزاپنا موقف پیش کرے : کلکتہ ہائی کورٹ

ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں 32کیس درج کیا گیا ہے اور 66افراد کی گرفتاری ہوئے ہیں ۔انہوں نے عدالت سے کہا کہ بادوریا اور بشیر ہاٹ کے دیگر علاقوں میں حالات معمول پر ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز