بی جے پی میں شامل ہونے کی پاداش میں 25 مسلم خاندانوں کے مسجد میں داخلے پر پابندی

Jun 21, 2017 02:33 PM IST | Updated on: Jun 21, 2017 02:33 PM IST

اگرتلہ۔ جنوبی تریپورہ کے شانتی بازار سب ڈویژن کے 25مسلم خاندانوں کو بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد مقامی مسجد میں جانے پر پابندی عائد کئے جانے سے متعلق خبریں سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بی جے پی میں حال ہی میں شامل ہونے والے جنوبی تریپورہ کے شانتی بازار سب ڈویزن کے 25 مسلم خاندانوں کومقامی مسجد میں داخل ہونے پر روک لگا دی ہے۔عید الفطر سے قبل اس واقعے سے علاقے میں تناؤ ہے۔ تاہم، ضلع انتظامیہ نے اس بابت بتایا کہ انہیں بھی اس طرح کی خبریں موصول ہوئی ہیں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں ان سے کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس کی شکایت ہی انہیں موصول ہوئی ہے۔

جنوبی تریپورہ کے ضلع مجسٹریٹ سی کے جماٹیا نے کہا کہ مذہبی معاملے میں کسی کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لوگوں کے بنیادی حقوق کی ہرحال میں حفاظت کی جائے گی اور اس کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ دریں اثنا،بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر محمد جسیم الدین نے آج کہا کہ اس واقعہ کی خبر پولس سپرنٹنڈنٹ

بی جے پی میں شامل ہونے کی پاداش میں 25 مسلم خاندانوں کے مسجد میں داخلے پر پابندی

بی جے پی کا انتخابی نشان کمل کا پھول: علامتی تصویر

کو دے دی گئی ہے۔ انہیں بتا دیا گیا ہے کہ سی پی آئی۔ایم کے کارکنان ان لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ہی شانتی بازار کے مدھیہ ٹلا ہیملٹ میں رہنے والے 25مسلم خاندانوں کے تقریبا200 لوگوں نے سی پی ایم کی رکنیت چھوڑ کر بی جے پی کی رکنیت حاصل کی ہے۔ ان لوگوں نے حکمراں جماعت کے کارکنوں سے خوفزدہ ہوئے بغیر یہ فیصلہ کیا ہے۔

جسیم الدین نےسی پی آئی۔ایم کے کیڈروں پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اگر انہوں نے بی جے پی سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی تو ان سے سرکاری سہولیات چھین لی جائیں گی۔ ان لوگوں کو منریگا کے تحت دئے گئے کاموں سے بھی روک دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے وہاں کے امام کے ذریعہ دئے گئے فتوی کی بھی مخالفت کی ہے جس میں

کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کو مسجد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے کیوں کہ انہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ یہ اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ کسی کو مسجد میں داخل ہونے سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ مقامی باشندہ بابل حسین نے کہا کہ مقامی امام کو ایسا فتوی جاری کرنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے کیوں کہ یہ اسلامی اصول و قوانین کے خلاف ہے۔

بال حسین نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہم پر مسجد کے دروازے بند کردئے گئے ہیں۔ ہم عبادت نہیں کر پا رہے ہیں ۔ ہم شدید پریشانی میں ہیں۔عبادت کے لئے ہم نے ایک الگ مقام کا انتخاب بھی کیا ہے لیکن وہاں پر بھی ہم عبادت نہیں کرپار ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی۔ ایم کے کارکنان انہیں علی الاعلان دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے بی جے پی سے اپنا رشتہ نہیں توڑا تو انہیں اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ بی جے پی کے ایک وفد نے اس معاملے میں ایس پی سے ملاقات کی ہے اور ان خاندانوں کو سیکورٹی مہیا کرانے اور انہیں ان کی مسجد میں عبادت کرنے کی اجازت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز