اب ریلوے کے ٹھیکہ میں پھنسا ’ لالو خاندان‘ ، سی بی آئی نے پوچھ گچھ کے لئے بھیجا سمن

Sep 07, 2017 02:45 PM IST | Updated on: Sep 07, 2017 02:45 PM IST

نئی دہلی۔  بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں کروڑوں روپے کے ہوٹل کی زمین گھوٹالے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے ریاست کے سابق وزیر اعلی اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سربراہ لالو پرساد یادو اور ان کے بیٹے تیجسوی یادو کو سمن بھیجا۔ سی بی آئی نے انہیں اگلے ہفتے الگ الگ دنوں پر پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا ہے۔ لالو یادو کو 11 ستمبر کو بلایا گیا اور تیجسوی یادو کو 12 ستمبر کو طلب کیا ہے۔ یہ 2006 کا معاملہ ہے جب آرجے ڈی کے سربراہ ریلوے کے وزیر تھے۔

ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے ایک پرائیویٹ کمپنی کو ریلوے ہوٹلوں کو چلانے کا ٹھیکہ دیا تھا اور اس کے عوض پٹنہ میں رشوت کے طور پر تین ایکڑ زمین لی تھی۔ اسی زمین پر ایک شاپنگ مال بنایا جارہا ہے۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق لالو یادو نے اپنی پارٹی کے ایم پی اور قریبی معتمد پریم گپتا کی بیوی سرلا گپتا کی گمنام کمپنی کے ذریعے یہ زمین لی تھی۔ اس سلسلے میں 5 جولائی کو یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تیجسوی یادو اس زمین کے مالکان میں سے ایک ہیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔

اب ریلوے کے ٹھیکہ میں پھنسا ’ لالو خاندان‘ ، سی بی آئی نے پوچھ گچھ کے لئے بھیجا سمن

سی بی آئی نے لالو یادو کو 11 ستمبر کو بلایا ہے اور تیجسوی یادو کو 12 ستمبر کو طلب کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز