کینسر کے مریض غیر مسلم پڑوسی کی مدد کے لئے مسلمانوں نے محرم کی تقریبات منسوخ کیں

Oct 06, 2017 05:06 PM IST | Updated on: Oct 06, 2017 05:49 PM IST

کلکتہ۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک بھرمیں فرقہ واریت میں اضافے کو لے کر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے تومغربی بنگال کے کھڑکپور کے مقامی مسلمانوں نے کینسر کے مریض غیر مسلم پڑوسی کے علاج کیلئے نہ صرف محرم کی تقریبات کیلئے جمع تمام روپے پڑوسی کو دے دیئے بلکہ مزید روپیہ جمع کرنے کی خاطر مقامی مسجد انتظامیہ نے جمعہ کی نماز میں نمازیوں سے چندہ کرکے بھائی چارہ اور پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی کیلئے ایک مثال قائم کی۔ کھڑکپور کے پوراتن بازار میں ہر سال سماج سنگھ کلب کے زیر اہتمام محرم کے جلوس کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔اس کیلئے 50000ہزار روپیہ چندہ کیا گیا تھا۔ مگر جب کلب انتظامیہ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ قریب میں موبائل ریچارج کی دوکان کے مالک 35سالہ ابیر بھوئیاں کو کینسر ہوگیا ہے اور علاج کیلئے کثیر رقم کی ضرورت ہے تو کمیٹی نے محرم کی تقریبات منسوخ کرکے یہ پوری رقم بھوئیاں کے حوالے کردی۔جب کہ اس سے قبل بھی ان لوگوں نے علاج کیلئے 6ہزار روپیہ دیا تھا۔

بھوئیا ں کی ا س وقت کلکتہ کے سروج گپتا کینسر سنٹر میں کیمو تھراپی ہورہی ہے ۔بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ساتھ علاج پر کل 12لاکھ روپے کا صرفہ ہے۔سماج سنگھا کلب کے سیکریٹری امجد خان نے کہا کہ محرم کے جلو س کا ہر سال اہتما م کیا جاتا ہے مگر ا س سال ہم لوگو ں نے جلوس کو رد کرکے کسی کی زندگی کو بچانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ہر جمعہ کو نماز کے بعد ابیر کے علاج کے لئے روپے جمع کرنے کی چندہ کرتے ہیں ۔ہمیں امید ہے کہ ایک بڑی رقم جمع ہوجائے گی۔ ہم نے امام صاحب سے کہا کہ وہ ا س کیلئے ہر جمعہ کی نماز میں اعلان کردیں۔وہ جمعہ کی نماز کے بعدابیر کے علاج کیلئے چندہ دینے کی اپیل کرتے ہیں۔  بھوئیا ں نے اپنے پڑو سیوں کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نہیں جانتا کہ میں اس مرض سے شفایاب ہوسکوں گا یا نہیں ،مگر میرے پڑوسیوں نے میرے لیے جو کچھ کیا ہے وہ میرے دل کو چھوگیا ہے اور میں کبھی بھی ا س کو فراموش نہیں کر سکو ں گا۔ گزشتہ سال ہی ا س کے والدین کا انتقال ہوگیا تھا ۔ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ یہاں رہتا ہے ۔اس کی بیوی پہلے بچے کی ماں بننے والی ہے۔

کینسر کے مریض غیر مسلم پڑوسی کی مدد کے لئے مسلمانوں نے محرم کی تقریبات منسوخ کیں

تعزیہ جلوس: فائل فوٹو، علامتی تصویر

بھوئیاں کے پڑوسی رنجن آش نے بتایا کہ یہاں پھر کچھ کمیونیٹی پوجا کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے مگرکوئی بھی پوجا کے اخراجات کو کم کرکے بھوئیاں کی مدد کرنے کیلئے رضامند نہیں ہوا ۔مگر مسلمانوں نے ایسا کردکھایا۔ محرم کمیٹی کے محمد بلال نے کہا کہ ہمارے ایثار کے جذبے سے خدا ضرور خوش ہوگا۔ میرا پڑوسی کینسر کا مریض ہے ۔ موت سے جنگ لڑرہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہماری کوششوں سے اس کی زندگی بچ جائے گی ۔ کھڑکپور میونسپلٹی کے چیرمین پردیپ سرکار نے کہا کہ ایک غیر مسلم پڑوسی کیلئے مسلمانوں کی کوشش ایک مثال ہے ۔ ترنمول کانگریس کے مقامی کونسلر تشار چودھری نے کہا کہ ہم اس جذبے کو سلام کرتے ہیں ۔ چودھری نے کہا کہ یہاں ایک سیتاجی کا مندر ہے جس کا دروازہ مسلمانوں نے چندہ کرکے تعمیر کرایا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز