ہند۔ بنگلہ دیش سرحدی معاہدہ: ہندوستانی شہریت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو مشکلات کا سامنا

Sep 27, 2017 02:47 PM IST | Updated on: Sep 27, 2017 02:54 PM IST

کلکتہ ۔ دو سال قبل 21سالہ شکیب علی میاں ہندوستانی شہریت حاصل کرنے بعد کافی خوش تھا۔2015میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحد ی معاہدہ کے بعد میاں اوردیگر 15,000افراد نے اس امیدوں کے ساتھ ہندوستان کی شہریت کو ترجیح دی تھی کہ بنگلہ دیش کے مقابلے انہیں یہاں اچھی زندگی گزارنے کے مواقع ملیں گے اور ان کیلئے تعلیم، روزگار کے دروازے بھی کھلیں گے۔ معاہدے کا دن ان کیلئے دوسری یوم آزادی تھی ۔ مگر اب ان کی امیدیں مایوسی میں تبدیل ہوتی جارہی ہیں۔ کیوں کہ امیدوں کے مطابق انہیں اچھی زندگی گزارنے کے مواقع نہیں مل رہے ہیں ۔

میاں جس کی عمر اب 23سال ہوچکی ہے ۔ ہندوستانی فوج کا حصہ بننے کیلئے تگ و دو کررہا ہے ۔مگر چوں کہ آدھار کارڈ اور ووٹر آئی کارڈ پرموجود والد کا نام اسکول لیونگ سرٹیفکٹ کے مماثل نہیں ہے اس لیے وہ فوج میں شمولیت کیلئے فارم نہیں بھر سکتا ہے ۔ یہ صورت حال اس لیے پیدا ہوئی کہ ہندوستان کا حصہ بننے سے قبل یہ علاقہ بنگلہ دیشی انکلیو تھا۔ یہاں کے بچے ہندوستانی اسکول میں نہیں پڑھ سکتے تھے۔ اس لیے میاں اور اس انکلیو کے دیگر بچے ہندوستانی سرحد میں موجود اپنے رشتہ داروں اور فیملی دوست کے پتے پر ہندوستانی اسکول میں داخلہ حاصل کرتے تھے۔ والد کے نام کے خانے میں اپنے والد کا نام لکھنے کے بجائے اپنے فیملی دوست کا نام درج کراتے تھے۔ کیوں کہ وہ ہندوستانی شہری تھے۔

ہند۔ بنگلہ دیش سرحدی معاہدہ: ہندوستانی شہریت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو مشکلات کا سامنا

دو ہزار پندرہ میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی معاہدہ کے بعد ہندوستانی شہریت حاصل کرنے والے افراد موم بتیاں جلا کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے۔ فائل فوٹو، یو این آئی۔

شکیب علی میاں پاتر کھوتی گاؤں کے رہنے والے اصغر علی میاں کا بیٹا ہے ۔مگر اسکول کے ریکارڈ میں ان کے فیملی دوست لطف ملک جو پاتھر گاؤں کے رہنے والے ہیں کا نام والد کے نام کی جگہ درج ہے ۔ یہ ایسا اس لیے کیا گیا کہ کیوں کہ بامن ہاٹ ہائی اسکول دین ہاٹا ضلع کوچ بہار انتظامیہ نے انکلیو میں رہنے والے بچوں کا داخلہ لینے سے انکار کردیا تھا ۔اس لیے انکلیو کے رہنے والوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کی خاطر ایسا قدم اٹھایا ۔ شکیب میاں نے بتایا کہ ان کے بہت سے دوست ہندوستانی فوج اور دیگر محکموں میں سرکاری ملازمت کے حصول کے متمنی ہیں ۔مگر ان پر سرکاری ملازمت کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔  اسکول سرٹیفکٹ اور آئی کارڈا ور آدھار کارڈ میں درج والد کے نام میں یکسانیت نہیں ہے ۔

اس علاقے میں20 سے 30سال کی عمر کے درمیان کے تقریبا ہزار بچے ہیں جواب مزدوری اورکھیتوں میں کام کرنے پر مجبورہیں ۔

شکیب علی میاں پاتر کھوتی گاؤں کے رہنے والے اصغر علی میاں کا بیٹا ہے ۔مگر اسکول کے ریکارڈ میں ان کے فیملی دوست لطف ملک جو پاتھر گاؤں کے رہنے والے ہیں کا نام والد کے نام کی جگہ درج ہے: فائل فوٹو۔ شکیب علی میاں پاتر کھوتی گاؤں کے رہنے والے اصغر علی میاں کا بیٹا ہے ۔مگر اسکول کے ریکارڈ میں ان کے فیملی دوست لطف ملک جو پاتھر گاؤں کے رہنے والے ہیں کا نام والد کے نام کی جگہ درج ہے: فائل فوٹو۔

بھارت۔ بنگلہ دیش انکلیوایکس چنج کوآرڈی نیشن کمیٹی کے کنوینر دیپتی مان سین گپتا نے کہا کہ انکلیو میں رہنے والے زیادہ تر بچوں نے ہندوستانی اسکولوں میں پڑھنے کیلئے والدین کے خانے میں غلط نام کو پر کیا ہے ۔ اوراب تقریباً ایک ہزار بچوں کو جاب مارکیٹ میں مشکلات کا سامنا ہے ۔اس لیے حکومت کو انہیں اپنے والدین کے نام میں اصلاح کرنے کیلئے کچھ مہلت دینی چاہیے۔ 40سال بعد جولائی 2015میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی معاہدہ کے تحت 14,856افراد جو بنگلہ دیشی انکلیو میں رہتے تھے نے ہندوستانی شہریت حاصل کی تھی ۔اسی طرح بنگلہ دیش کی سرحد میں واقع 111انڈین انکلیو میں آباد 37,369افراد نے بنگلہ دیشی شہریت حاصل کی۔ اس میں 979افراد نے ہندوستانی شہریت حاصل کی۔ بنگلہ دیشی انکلیو جوہندوستان کا حصہ بنے وہ بنگال کے کوچ بہار میں واقع ہے۔

ہند۔ بنگلہ دیش سرحدی معاہدہ کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی ڈھاکہ کے دورہ پر: فائل فوٹو۔ ہند۔ بنگلہ دیش سرحدی معاہدہ کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی ڈھاکہ کے دورہ پر: فائل فوٹو۔

مان سین گپتا نے کہا کہ اس علاقے میں رہنے والے افراد گزشتہ کئی نسلوں سے پرامن طریقے سے رہتے ہوئے آ رہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے بچوں کی پڑھائی کیلئے والد کے نام کی جگہ فرضی نام درج کراتے تھے اور یہ بات یہاں عام تھی ۔ سین گپتا نے کہا کہ حکومت ہند کو ان بچوں کے مستقبل کے پیش نظر ایسی کوئی پالیسی بنانی چاہیے جس سے یہ مسئلہ حل ہوجائے ۔اگر ایسا نہیں ہوا تو ان بچوں کا مستقبل برباد ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو اسمبلی میں اٹھانے کی ضرورت ہے مگر مقامی ممبر اسمبلی بالکل خاموش ہیں۔ مقامی ممبر اسمبلی دین ہاٹا ادیان گوہا جو ترنمول لیڈر بھی ہیں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو دیکھ رہی ہے جب کہ ضلع مجسٹریٹ کوشک ساہا نے کہا کہ ’چوں کہ ان کی تقرری یہاں پر نئی ہوئی ہے اس لیے وہ اس مسئلے سے واقف نہیں ہیں ۔

ہندوستانی شہریت حاصل کرنے والی خواتین جشن مناتی ہوئیں۔ فائل فوٹو، یو این آئی۔ ہندوستانی شہریت حاصل کرنے والی خواتین جشن مناتی ہوئیں۔ فائل فوٹو، یو این آئی۔

دوسال قبل ہندوستانی شہریت حاصل کرنے والے رحمان علی جو نسکر علی کے بیٹے ہیں مگر ان کے اسکول سرٹیفکٹ پر والد کے نام کی جگہ شیر علی درج ہے نے کہا کہ ہم نے اس معاملے میں مقامی بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر، اسکول ایجوکیشن بورڈ کے چیرمین ، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور صدر جمہوریہ تک کو خط لکھ کر اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں ملا ۔ طلباء کے ایک گروپ نے سیکنڈری اینڈ ہائر ایجوکیشن بورڈ کے افسران سے بھی ملاقات کی تھی ۔ افسران نے کہا کہ اسمبلی میں بل پاس کیے بغیر ریکارڈ میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی ہے ۔مگر میاں مایوس نہیں ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ جب ہم نے ہندوستانی شہریت کیلئے کئی سالوں تک جد و جہد کیا ہے تو پھر اس کیلئے بھی بھر پور جدو جہد کریں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز