ممتا بنرجی نے اقلیتوں کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے صرف اعلانات کئے ہیں: محمد سلیم

May 23, 2017 12:27 PM IST | Updated on: May 23, 2017 12:51 PM IST

کلکتہ۔ ممتا بنرجی کے 6سالہ دور حکومت میں اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سی پی ایم کے پولٹ بیورو کے ممبر محمد سلیم نے کہا کہ ان 6سالوں میں اقلیتوں کی ٹھوس ترقی کیلئے اقدامات کرنے کے بجائے دکھاوے کے لئے صرف اعلانات کیے گئے جس کا فائدہ اقلیتوں کو پہنچنے کے بجائے بی جے پی کی پولرائزیشن کی سیاست کو مل گیا ۔ خیال رہے کہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس نے بنگال میں اپنے اقتدار کو چھ سال مکمل کرلیے ہیں ۔20مئی 2011کو ممتا بنرجی نے بایاں محاذ کے 34سالہ اقتدارکا خاتمہ کرتے ہوئے بڑی اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی ۔ مگر گزشتہ 6برسوں میں حالات بدل چکے ہیں ۔ ریاست کی اپوزیشن جماعت بایاں محاذ کی جگہ تیزی سے بی جے پی لے رہی ہے اور ممتا بنرجی کیلئے پولرائزیشن کی سیاست کا مقابلہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔34سالوں تک بنگال میں اقتدار میں رہنے والی بایاں محاذ 2011میں 294سیٹوں میں سے صرف 60سیٹ پر ہی کامیابی حاصل کرسکی۔

گزشتہ 6برسوں میں بایاں محاذ اپنی کھوئی ہوئی زمین حاصل کیا کرتی بلکہ ریاست میں کمیونسٹ تحریک کمزور ہوتی جارہی ہے۔ گرچہ  سی پی ایم نے کلکتہ میں ریاستی سیکریٹریٹ کے گھیراؤ میں اپنے حامیوں کو بڑی تعداد میں جمع کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے گرچہ ریاست میں بایاں محاذ کمزور ہوا ہے تاہم کمیونسٹ تحریک ختم نہیں ہوئی ہے ۔ بنگال میں کمیونسٹ قوتوں کے کمزور ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پولٹ بیورو کے ممبر اور بنگال سی پی ایم کے سینئر لیڈرو ممبر پارلیمنٹ محمد سلیم نے کہا کہ ممتا بنرجی نے اپنے 6سالہ دور اقتدار میں ریاست سے بایاں محاذ کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ کلکتہ سمیت ریاست بھر میں پروگرام کرنے کیلئے سی پی ایم کو نہ کوئی ہال اور نہ شادی باڑی اسکول و کالج تک میں اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔دوسرے یہ کہ ممتا بنرجی نے اقلیتوں سے متعلق جھوٹے وعدے کرکے بی جے پی کیلئے پولرائزیشن کی سیاست کی راہ ہموار کی ہے۔

ممتا بنرجی نے اقلیتوں کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے صرف اعلانات کئے ہیں: محمد سلیم

رکن پارلیمنٹ محمد سلیم: فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی نے جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے جس کی وجہ سے بی جے پی کو اکثریتی طبقے کی سیاست کرنے کا موقع ملا جب کہ ممتا بنرجی اقلیتوں کی ترقی کیلئے کوئی بھی ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے اقلیتوں کو فریب دینے کی کوشش کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی نے اقتدار میں آتے ہی جنوبی 24پرگنہ کے بھانگر میں مسلمانوں کیلئے میڈیکل کالج بنانے کا اعلان کیا ؟ مگر گزشتہ 6سالوں میں بھانگر میں کالج کھولنے کے بجائے پاور پلانٹ کیلئے جبراًزمین لی گئی اور احتجاج کررہے کسانوں پر گولیاں برسائی گئیں جس میں دوافراد کی موت ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی جب وزیر ریلوے تھیں اس وقت انہوں نے مٹیا برج میں ریلوے کے فنڈ سے نرسنگ کالج بنانے کا اعلان کیا تھا ۔اسی طرح فرفرہ شریف تک ریلوے لائن لے جانے کا اعلان کیا ۔مگر ان 6برسوں میں اس اسکیم پر کچھ بھی نہیں ہوا مگر بی جے پی کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ ممتا بنرجی صرف اقلیتوں کیلئے کام کرتی ہیں ۔جب کہ ممتا بنرجی واجپئی حکومت میں وزیر ریلوے تھیں تو انہوں نے بیلور مٹھ تک ریلوے لائن جانے کا سنگ بنیاد رکھا اور اس کی تکمیل بھی کردی۔  رائے گنج سے ممبر پارلیمنٹ محمد سلیم نے کہا کہ جب ریاست میں بایاں محاذ کی حکومت تھی تو ہم نے ایم ایس ڈی پی کے فنڈ سے کارپوریشن کے اردو میڈیم اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔اس کیلئے فنڈ بھی مختص کردیا گیا تھا مگر گزشتہ 6برسوں میں اس فنڈ سے جگہ جگہ قضائے حاجت کیلئے عوامی بیت الخلا ء کی تعمیر ہوگئی مگر اسکولوں کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح اقلیتی و مالیاتی کارپوریشن کے ذریعہ سیلف ہیلپ گروپ کے ذریعہ مسلمانوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔اس کیلئے تربیتی سنٹر قائم کیے گئے تھے مگراب سیلف ہیلپ گروپ کے نام پر بندر بانٹ ہورہے ہیں اور اس کا فائدہ مسلمانوں کو نہیں ہورہا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں محمد سلیم نے کہا کہ بایاں محاذ کے دور اقتدار میں ایم ایس ڈی پی کے فنڈ سے ریاست کے مسلم اکثریتی علاقوں میں نرسنگ ہوم کی تعمیر کی گئی تھی مگر اب تک یہ نرسنگ کام نہیں کررہے ہیں کیوں کہ تعمیرات کیلئے فنڈ مرکزی حکومت کو دینے تھے اور انہیں چلانے کیلئے فنڈ ریاستی حکومت کو دینے تھے۔ محمد سلیم نے کہا کہ اب ان نرسنگ ہوم کو پرائیوٹ اداروں کے ہاتھوں دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونے کے سوال پر محمد سلیم نے کہا کہ ریاست میں کہنے کو اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ۔مگر صورت حال یہ ہے کہ اردو میں سرکاری اشتہارات بالکل نہیں ہے۔

ممتا بنرجی، فائل فوٹو: گیٹی امیجیز ممتا بنرجی، فائل فوٹو: گیٹی امیجیز

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنا کوئی بھی پروگرام اردو میں شائع نہیں کرتی جب کہ بایاں محاذ میں حکومت کے تمام پروگرام کے اشتہارات بنگلہ ، ہندی کے ساتھ اردو میں بھی شائع ہوتے تھے آج پورے شہر میں گھوم جائیے کہیں پر بھی حکومت کا اردو میں کوئی بینر نہیں ملے گا۔ صرف عید مبارک اور حج مبارک کے علاوہ کوئی پروگرام اردو میں نہیں ہوتا ہے۔ محمد سلیم نے اردو اسکولوں کے تعلیمی معیار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بایاں محاذ کے دور حکومت میں اردو و ہندی کتابیں بروقت دستیاب کرادی جاتی تھیں مگر اب7مہینے بعد بھی طلباء کو کتابیں مہیا نہیں کرائی جاتی ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز